کراچی میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ یعنی سی ٹی ڈی نے ایک انتہائی اہم آپریشن کے دوران خطرناک دہشت گردی کے منصوبے کو ناکام بناتے ہوئے 2 ہزار کلوگرام سے زائد انتہائی خطرناک بارودی مواد برآمد کیا گیا ہے۔
کارروائی کو سیکیورٹی اداروں کی جانب سے بروقت اور فیصلہ کن قرار دیا جا رہا ہے، جس میں 3 دہشتگردوں کو گرفتار بھی کیا ہے۔
ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی ذوالفقار لاڑک اور ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اظفر مہیسر نے پریس کانفرنس میں انکشاف کیا کہ دہشت گرد کراچی میں بڑے پیمانے پر کارروائی کی منصوبہ بندی کر رہے تھے، تاہم بروقت کارروائی کے ذریعے شہر کو بڑے سانحے سے بچا لیا گیا۔
ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اظفر مہیسرکے مطابق دہشتگردوں نے رئیس گوٹھ کے علاقے میں بڑی مقدار میں بارودی مواد چھپا رکھا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی پولیس کی کارروائی، بھارتی جاسوس اسلحہ سمیت گرفتار
انٹیلیجنس بیسڈ کارروائی کے دوران ایک ٹرک، 30 سے زائد بڑے ڈرم اور 5 سلنڈر قبضے میں لیے گئے، جبکہ مجموعی طور پر 2 ہزار کلوگرام سے زائد بارودی مواد برآمد ہوا۔
پولیس حکام نے بتایا کہ اس میں کمرشل نوعیت کا بارودی مواد بھی شامل تھا، جسے بعد ازاں ناکارہ بنا دیا گیا۔
ابتدائی کارروائی میں ایک دہشت گرد کو گرفتار کیا گیا، جس سے ہونے والی تفتیش کی بنیاد پر گزشتہ شب مزید 2 دہشت گردوں کو حراست میں لیا گیا۔
گرفتار ملزمان کی شناخت جلیل عرف فرید، نیاز عرف کنگ اور حمدان عرف فرید کے نام سے ہوئی ہے۔
مزید پڑھیں: سی ٹی ڈی کی کارروائی، کراچی پولیس آفس پر حملے کا ماسٹر مائنڈ ہلاک
ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کا کہنا ہے کہ ملزمان کا تعلق کالعدم تنظیم بی ایل اے کے کمانڈر بشیر سے ہے اور انہوں نے کراچی میں دہشت گردی کی بڑی واردات کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔
تفتیش کے مطابق بارودی مواد مختلف راستوں سے لا کر ایک جگہ جمع کیا جا رہا تھا، پولیس حکام نے بتایا کہ دہشت گردوں کا منصوبہ کراچی میں سویلین اہداف کو نشانہ بنانا تھا۔
تحقیقات کے مطابق دھماکہ خیز مواد افغانستان سے بلوچستان کے راستے کراچی منتقل کیا گیا، تاہم سیکیورٹی اداروں کی بروقت کارروائی کے باعث شہر کو ایک بڑی تباہی سے بچا لیا گیا۔
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے سی ٹی ڈی کی جانب سے اس حالیہ کارروائی کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بڑی کامیابی قرار دیا۔
مزید پڑھیں: کراچی پولیس کی بڑی کارروائی، لیاری گینگ وار جوجی گروپ کا کمانڈر گرفتار
ان کا کہنا تھا کہ آپریشن کے دوران مجید بریگیڈ سے تعلق رکھنے والے کارندوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔
پریس کانفرنس میں مزید بتایا گیا کہ دہشت گردی کی اس سازش کی تمام منصوبہ بندی بیرونِ ملک کی گئی تھی، جبکہ مقامی سطح پر سہولت کاروں کے ذریعے مواد کی ترسیل اور ذخیرہ کیا گیا۔
سی ٹی ڈی حکام کے مطابق ابتدائی شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ گرفتار دہشت گردوں کے نیٹ ورک کے روابط بشیر زیب، بی ایل اے اور مجید بریگیڈ سے جڑے ہوئے ہیں۔
حکام کا مزید کہنا ہے کہ بھارتی پروکسی تنظیمیں بی ایل اے اور بی ایل ایف افغانستان میں محفوظ ٹھکانے استعمال کر رہی ہیں، جن کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔














