رحم کا کینسر دنیا بھر میں خواتین میں پائے جانے والے عام کینسرز میں شامل ہے، جو اکثر طویل عرصے تک تشخیص کے بغیر رہتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس بیماری میں 10 میں سے 7 مریضوں کے ہاں تشخیص کے وقت تک کینسر پیٹ کے اندر ثانوی رسولیاں بنا چکا ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سروائیکل کینسر ویکسین تولیدی صحت کے لیے کتنی محفوظ، پاکستان میں لوگ بائیکاٹ کیوں کررہے ہیں؟
یونیورسٹی آف باسل اور یونیورسٹی ہاسپٹل باسل کے محققین نے اپنی تازہ تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ اوویرین کینسر(رحم کا کینسر) زیادہ تر پیٹ کے ایک مخصوص حصے اومنٹم کو نشانہ بناتا ہے، جو معدے کو دیگر اندرونی اعضا سے جوڑتا ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ کینسر کے خلیے اس حصے کو اس طرح متاثر کرتے ہیں کہ وہ پورے عضو کو اپنی افزائش کے لیے سازگار بنا لیتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق اوویرین کینسر کے جدید مراحل میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا نظر آنے والی رسولیوں کے ساتھ ساتھ اومنٹم کو بھی احتیاطی طور پر مکمل طور پر نکال دینا چاہیے تاکہ کینسر کے دوبارہ پھیلاؤ کو روکا جاسکے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں سالانہ ہزاروں مائیں اور لاکھوں بچے کیوں مر رہے ہیں؟
اس حوالے سے ماہرین نے 15 مریضوں سے حاصل کیے گئے 36 ٹشو سیمپلز کا تجزیہ کیا، جو اومنٹم کے مختلف حصوں سے لیے گئے تھے۔
سائنسدانوں نے ان نمونوں میں موجود خلیات کا تفصیلی مطالعہ کرتے ہوئے اومنٹم کا ایک سیل ایٹلس تیار کیا، جس سے صحت مند اور بیمار حالت کے فرق کو واضح کیا گیا۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ صحت مند اومنٹم میں خلیات کا توازن برقرار رہتا ہے اور تمام حصوں میں خلیات کی تعداد تقریباً یکساں ہوتی ہے۔
اس کے برعکس اوویرین کینسر کے مریضوں میں اومنٹم کا ماحول مکمل طور پر تبدیل ہو جاتا ہے، جو رسولیوں کے پھیلاؤ کو فروغ دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بچے دانی فورا نکلوا دیں!
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ ٹیومر سے دور موجود ٹشوز میں بھی تبدیلیاں شروع ہوجاتی ہیں اور وہاں کینسر کے ابتدائی خلیات پائے جاتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جب کینسر کے خلیات اومنٹم میں داخل ہوتے ہیں تو وہ پورے عضو کو اپنے قبضے میں لے لیتے ہیں۔
اس دریافت کو اوویرین کینسر کے علاج میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس سے مستقبل میں بیماری کے دوبارہ لوٹنے کے امکانات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔














