دنیا بھر میں جہاں مالیاتی ادارے اور سرمایہ کاری بینکس سنہ 2026 میں سونے کی قیمتوں کے مجموعی طور پر مضبوط رہنے کی توقع ظاہر کر رہے ہیں وہیں سوشل میڈیا اور بعض غیر رسمی مالیاتی پلیٹ فارمز پر یہ دعوے بھی گردش کر رہے ہیں کہ رواں سال میں گولڈ کی قیمتوں میں کمی یا نمایاں اصلاح دیکھی جا سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سونے کی قیمت میں تاریخی اضافہ، فی تولہ کتنا مہنگا ہوگیا؟
ان رپورٹس کے مطابق اگر عالمی معیشت میں استحکام آتا ہے، سود کی شرحیں بلند رہتی ہیں اور ڈالر مضبوط ہوتا ہے تو سونے کی حالیہ تیزی دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ مرکزی بینکوں کی مسلسل خریداری، جیوپولیٹیکل غیر یقینی صورتحال اور سرمایہ کاروں کا محفوظ اثاثوں کی طرف رجحان سونے کو سہارا دے سکتا ہے۔ اس لیے سال 2026 میں گولڈ مارکیٹ کو لے کر تصویر واضح نہیں بلکہ اتار چڑھاؤ، افواہوں اور متضاد پیشگوئیوں سے بھرپور دکھائی دیتی ہے جہاں قیمتیں یا تو نئی بلندیوں کو چھو سکتی ہیں یا پھر ایک محدود حد تک نیچے آنے کا امکان بھی خارج از امکان نہیں۔
کراچی گولڈ ایسوسی ایشن کے ممبر عبداللہ چاند کا کہنا ہے کہ عالمی اور مقامی مارکیٹ میں اس وقت سونا اور چاندی مکمل طور پر تیزی کے رجحان پر گامزن ہیں اور قیمتوں میں کمی سے متعلق فی الحال کوئی ٹھوس یا مستند اشارہ سامنے نہیں آیا۔
مزید پڑھیے: سال 2025 میں سونے کی قیمتوں کا کیا رجحان رہا؟
ان کے مطابق پیر کو مارکیٹ کے آغاز پر ہی سونے نے تقریباً 100 ڈالر کا اپر ہائی بنایا جبکہ ٹریڈنگ کے دوران بھی سونا 88 ڈالر پلس کی پوزیشن میں رہا جو مارکیٹ میں مضبوط خریداروں کی موجودگی کو ظاہر کرتا ہے۔
عبداللہ چاند کا کہنا ہے کہ چاندی کی صورتحال بھی انتہائی مثبت ہے جہاں قیمتوں میں 4 ڈالر تک اضافہ دیکھنے میں آیا اور یہ 76 ڈالر کی سطح کو چھونے کے بعد بھی ڈھائی سے 3 ڈالر پلس پر مستحکم رہی۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان اس بات کی واضح علامت ہے کہ کموڈیٹی مارکیٹ میں تیزی برقرار ہے اور آنے والے دنوں میں قیمتوں میں مزید اضافے کے امکانات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
وہ کہتے ہیں کہ عالمی سطح پر جیو پولیٹیکل کشیدگی ایک اہم عنصر بنی ہوئی ہے جہاں ایک خطے میں تناؤ کم ہوتا ہے تو دوسرے خطے میں بڑھ جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر وینزویلا اور امریکا کے درمیان حالیہ کشیدگی کو وہ نہایت تشویشناک قرار دیتے ہیں۔
ان کے مطابق وینزویلا دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر رکھنے والا ملک ہے اور چین، سعودی عرب، ایران اور روس جیسے بڑے ممالک اس کے ساتھ کھڑے ہیں جس کے باعث صورتحال مزید حساس ہو گئی ہے۔
مزید پڑھیں: چاندی کی بڑھتی قیمت، کیا چاندی سونے کی جگہ لے رہی ہے؟
عبداللہ چاند کا کہنا ہے کہ اگر امریکا کی جانب سے کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی یا جنگی قدم اٹھایا گیا تو یہ تنازع ایک وسیع عالمی جنگ کی شکل اختیار کر سکتا ہے جس کے براہ راست اثرات عالمی معیشت کے ساتھ ساتھ سونے اور چاندی جیسی کموڈیٹیز پر بھی پڑیں گے اور ایسی صورتحال میں سرمایہ کار عموماً محفوظ اثاثوں کا رخ کرتے ہیں۔
ان کے مطابق امریکا میں بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ کے ساتھ ساتھ ڈالر کی قدر میں بھی مسلسل کمی دیکھی جا رہی ہے جبکہ عالمی سطح پر ڈالر کو مختلف محاذوں پر چیلنجز کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسی پس منظر میں نئی نسل اور سرمایہ کاروں کا رجحان تیزی سے فزیکل گولڈ اور سلور کی جانب بڑھ رہا ہے کیونکہ یہ کمپیکٹ، آسانی سے خرید و فروخت کے قابل اور ایک محفوظ سرمایہ کاری سمجھے جاتے ہیں۔
عبداللہ چاند کا مزید کہنا ہے کہ چاندی کی قیمتوں کو صنعتی مانگ بھی مضبوط سہارا فراہم کر رہی ہے کیونکہ نئی ٹیکنالوجیز، الیکٹرانکس اور دیگر صنعتی شعبوں میں چاندی کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے جس کے باعث اس دھات میں نمایاں کمی کے امکانات کم دکھائی دیتے ہیں۔
عبداللہ چاند نے کہا کہ اگر موجودہ عالمی اور معاشی حالات اسی طرح برقرار رہے تو سال کے اختتام تک پاکستان میں سونے کی قیمت تقریباً 6 لاکھ روپے فی تولہ تک پہنچ سکتی ہے جبکہ چاندی کی قیمتیں بھی بتدریج اوپر کی جانب بڑھنے کا امکان رکھتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: بٹ کوائن یا گولڈ: موجودہ وقت میں سرمایہ کاری کے لیے بہترین آپشن کیا ہے؟
راولپنڈی صرافہ ایسوسی ایشن کے رکن محمد مجتبیٰ کا کہنا ہے کہ سال 2026 کے آغاز میں سونے کی قیمتوں کے حوالے سے مارکیٹ میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ دیکھنے کو مل سکتا ہے تاہم مجموعی رجحان تیزی کی طرف ہی رہے گا۔
ان کے مطابق موجودہ عالمی حالات اور سرمایہ کاروں کے رویے کو دیکھتے ہوئے یہ بات واضح ہے کہ سونا اپنی مضبوط پوزیشن برقرار رکھے گا اور نئی سطحیں قائم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
محمد مجتبی کے مطابق سال 2026 کے دوران عالمی سطح پر سونے کی قیمت 5 لاکھ روپے فی تولہ کی حد عبور کر سکتی ہے تاہم وہ اس بات کے قائل نہیں کہ قیمتوں میں کسی نمایاں یا مستقل کمی کی توقع کی جائے۔
مزید پڑھیں: اقتصادی رابطہ کمیٹی نے سونے کی تجارت پر پابندی ختم کردی
ان کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں وقتی اصلاح تو آ سکتی ہے مگر مجموعی طور پر سونا دباؤ میں آنے کے بجائے خود کو سنبھالتا دکھائی دے گا۔
محمد مجتبی کے مطابق اگرچہ عالمی مالیاتی پالیسیز، ڈالر کی قدر اور سود کی شرحیں وقتی طور پر مارکیٹ پر اثر انداز ہو سکتی ہیں لیکن مجموعی طور پر سونا ایک مضبوط سرمایہ کاری کے طور پر ابھرتا رہے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ‘اداروں نے نہ سنبھالا تو سونے کی انڈسٹری بھی مافیا کے ہاتھ چلی جائے گی’
ان کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں سرمایہ کاروں کو افواہوں کے بجائے مارکیٹ کے بنیادی عوامل کو مدنظر رکھنا چاہیے۔














