امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایک ذہنی طور پر غیر متوازن شخص نے ان کے اوہائیو میں واقع گھر میں گھسنے کی کوشش کی تاہم واقعے کے وقت وہ اور ان کا خاندان وہاں موجود نہیں تھے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے گھر پر حملہ، کھڑکیاں توڑ دی گئیں، مشتبہ شخص زیر حراست
جے ڈی وینس نے پیر کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ میری معلومات کے مطابق ایک شخص نے کھڑکیوں پر ہتھوڑے مار کر گھر میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں سیکرٹ سروس اور سنسناٹی پولیس کا شکر گزار ہوں جنہوں نے فوری کارروائی کی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ وہ اس وقت پہلے ہی واشنگٹن ڈی سی واپس جا چکے تھے اور میڈیا سے درخواست کی کہ گھر کی کھڑکیوں میں بننے والے سوراخوں کی تصاویر شائع نہ کی جائیں۔
اس سے قبل امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے قانون نافذ کرنے والے ادارے کے ایک نامعلوم ذریعے کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ حکام اس واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں اور ایک شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔
واقعے پر امریکی سیکرٹ سروس کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔
مزید پڑھیے: ’گلے لگانا میری فطرت ہے‘، اریکا کرک کی جے ڈی وینس سے گلے ملنے پر وضاحت
یہ واقعہ امریکا میں منتخب سیاسی شخصیات کے خلاف پیش آنے والے حالیہ تشدد کے واقعات کی ایک کڑی سمجھا جا رہا ہے۔
گزشتہ سال جون میں ریاست مینیسوٹا کی ایک سینیئر ڈیموکریٹ رکن اسمبلی اور ان کے شوہر کو ایک مسلح شخص نے ہلاک کر دیا تھا جسے حکام نے سیاسی بنیادوں پر کیا گیا قتل قرار دیا تھا۔
I appreciate everyone's well wishes about the attack at our home. As far as I can tell, a crazy person tried to break in by hammering the windows. I'm grateful to the secret service and the Cincinnati police for responding quickly.
We weren't even home as we had returned…
— JD Vance (@JDVance) January 5, 2026
اسی طرح اپریل میں پنسلوانیا کے گورنر جوش شاپیرو کے گھر کو آگ لگانے کی کوشش کی گئی تھی جب وہ اور ان کا خاندان گھر میں موجود تھے۔
یہ واقعہ اکتوبر 2022 میں سابق اسپیکر نینسی پیلوسی کے سان فرانسسکو میں واقع گھر پر ہونے والے حملے سے مشابہت رکھتا ہے، جس میں حملہ آور نے ان کے شوہر پر ہتھوڑے سے حملہ کیا تھا۔
مزید پڑھیں: پاک بھارت کشیدگی ’ہمارا معاملہ نہیں‘، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس
امریکی حکام کے مطابق سیاسی رہنماؤں کے خلاف ایسے واقعات پر سیکیورٹی اقدامات مزید سخت کیے جا رہے ہیں۔














