اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا وینزویلا کی موجودہ صورتحال پر ہنگامی اجلاس ہوا، جس میں چین اور روس نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کی فوری رہائی کا مطالبہ کردیا۔
چین اور روس نے وینزویلا میں امریکی مداخلت کی سخت مذمت کی اور اس کے نتائج پر تشویش ظاہر کی۔
مزید پڑھیں: وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
چین کے مندوب نے کہاکہ امریکا نے لاطینی امریکا اور کریبیئن کے خطے میں امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے اور اس غنڈہ گردی کو عالمی برادری کی جانب سے تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔
چین نے امریکا سے اقوام متحدہ کے چارٹر کی پاسداری کرنے کا مطالبہ کیا اور کہاکہ امریکہ کو صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کو فوری طور پر رہا کرنا چاہیے۔
روسی مندوب نے بھی امریکی کارروائی کی مذمت کی اور کہا کہ امریکا نے وینزویلا کے صدر مادورو کو اغوا کیا ہے۔
انہوں نے سوال کیا کہ کیا اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کا کوئی وجود اب باقی رہ گیا ہے؟ روس نے مزید کہا کہ امریکا عالمی برادری کے تحفظات کو نظر انداز کر رہا ہے اور وینزویلا کی سالمیت پر حملہ کر رہا ہے۔
پاکستان کا مؤقف
پاکستان نے اس معاملے میں افہام و تفہیم اور ڈپلومیسی کے ذریعے حل تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
پاکستان کے قائم مقام مندوب عثمان جدون نے کہا کہ وینزویلا کے معاملے کو حل کرنے کے لیے مذاکرات اور ڈائیلاگ کی ضرورت ہے، کیونکہ یکطرفہ فوجی کارروائیاں صرف مزید عدم استحکام کا باعث بنیں گی۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کا چارٹر کسی بھی ملک کی سالمیت کے خلاف طاقت کے استعمال کی اجازت نہیں دیتا۔
عثمان جدون نے کہاکہ دنیا پہلے ہی متعدد بحرانوں کا سامنا کر رہی ہے اور اس طرح کے اقدامات خطے اور عالمی امن کے لیے خطرناک ہیں۔ پاکستان نے وینزویلا کے عوام کی خواہشات کے مطابق مسائل کے حل کی اپیل کی اور تمام فریقوں سے تحمل کی درخواست کی۔
مادورو نے امریکی عوام کے خلاف جرائم کیے ہیں، امریکی مندوب
امریکی مندوب نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں کہاکہ امریکا نے وینزویلا میں ایک ’سرجیکل آپریشن‘ کیا جس کے نتیجے میں دہشت گرد صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کیا گیا۔
ان کے مطابق مادورو نے امریکی عوام کے خلاف جرائم کیے ہیں اور ان دونوں کو اپنے جرائم کا جواب دینا ہوگا۔ امریکی مندوب نے یہ بھی کہا کہ یہ آپریشن صدر ٹرمپ کی ہدایات پر کیا گیا تھا اور اس کا مقصد امریکی عوام کا تحفظ تھا۔
چین اور روس کی جانب سے امریکی اقدامات کی مذمت
چینی مندوب نے اس بات پر زور دیا کہ امریکا نے اقوام متحدہ کے چارٹر کو نظرانداز کر کے عراق اور ایران پر حملے کیے، جس کے نتیجے میں نہ تو امن آیا اور نہ ہی استحکام۔
چین نے کہا کہ وینزویلا ایک آزاد ملک ہے اور کسی بھی ملک کو اس پر پولیس کا کردار ادا کرنے کا حق نہیں ہے۔ چین نے مزید کہا کہ امریکا کو اپنے اقدامات میں تبدیلی لانی چاہیے اور سختی سے گریز کرنا چاہیے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس وینزویلا کی موجودہ صورتحال پر مختلف عالمی طاقتوں کے بیانات کے تبادلے کا موقع بن گیا، جس میں چین اور روس نے امریکا کے اقدامات پر سخت اعتراض کیا اور وینزویلا کے صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔
پاکستان نے اس بحران کو افہام و تفہیم سے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا، جبکہ امریکا نے اپنے اقدامات کو امریکی عوام کے تحفظ کے لیے ضروری قرار دیا۔
مزید پڑھیں: وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور اہلیہ نیویارک کی عدالت میں پیش، فرد جرم عائد
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا امریکی فوجی کارروائی پر اظہار تشویش
اجلاس میں سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوتریس نے وینزویلا میں 3 جنوری کو ہونے والی فوجی کارروائی پر تشویش کا اظہار کیا ہے، جس میں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی گئی۔ ان کے مطابق اس کارروائی کے دوران بین الاقوامی قانون کی پاسداری نہیں کی گئی۔
انتونیو گوتریس کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور تمام متعلقہ قانونی فریم ورک کا احترام امن و سلامتی کے تحفظ کے لیے ضروری ہے، اور ریاستوں کی خودمختاری، سیاسی آزادی اور علاقائی سالمیت کے اصولوں کا احترام کیا جانا چاہیے۔














