وزیراعظم آزاد کشمیر راجا فیصل ممتاز راٹھور نے کہا ہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج کے لیے اس وقت کوئی جواز نہیں ہے اور ریاست کو اس احتجاج کو روکنے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔ انہوں نے عوامی ایکشن کمیٹی کو دعوت دی کہ وہ حکومت کا حصہ بنے اور مل کر ریاست کی ترقی کے لیے کام کریں۔
نجی ٹی وی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ وہ یہ نہیں کہتے کہ احتجاج کرنا غلط ہے، لیکن عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبات پر کسی بھی تاخیر کو سنجیدہ انداز میں لیا گیا ہے اور حکومت نے ان کے مطالبات پر عمل کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔
مزید پڑھیں: آزاد کشمیر میں ایک بار پھر احتجاج کی تیاریاں، وفاقی وزرا نے ایکشن کمیٹی کو بات چیت کی دعوت دیدی
وزیراعظم نے مزید وضاحت کی کہ معاہدے کے تحت کچھ نوٹیفکیشن جاری ہو چکے ہیں، جبکہ دیگر پر عمل درآمد جاری ہے۔
انہوں نے کہاکہ عوامی ایکشن کمیٹی کی موجودہ جذباتی کیفیت ان کے لیے حیران کن ہے اور اس کا کہنا تھا کہ ریاست کو آگے لے جانے کے لیے سب کو مل کر بات کرنا ہوگی۔
فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ وفاقی حکومت اس وقت ہر معاملے کا نوٹس لے رہی ہے اور عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج کا اس وقت کوئی جواز نہیں ہے۔ انہوں نے معاہدے میں قائمہ کمیٹیوں کے ذکر نہ ہونے پر وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ کمیٹیاں اسمبلی ہی تشکیل دیتی ہے۔
وزیراعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ ریاست کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ احتجاج کو روکے، اور اگر عوامی ایکشن کمیٹی حکومت کا حصہ بن کر ساتھ چلنا چاہے تو ریاست انہیں آنر شپ دینے کو تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب احتجاج ہوا اور اسے روکنے کی کوشش کی گئی تو دونوں طرف نقصان ریاست کا ہی ہوا۔
فیصل ممتاز راٹھور نے کہاکہ حکومت کا مقصد ہے کہ انتخابات میں کسی بھی قسم کی تاخیر نہ ہو اور بروقت انتخابات کرائے جائیں۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ موجودہ ماحول میں انہیں نہیں لگتا کہ لوگ سڑکوں پر آنا پسند کریں گے، اور امید ہے کہ جلد ہی چیف الیکشن کمشنر کی تقرری ہو جائے گی۔
مزید پڑھیں: آزاد کشمیر: عوامی ایکشن کمیٹی کی پھر احتجاج کی دھمکی، وزیراعظم میدان میں
واضح رہے کہ جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے حکومت پر معاہدے پر عملدرآمد نہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے دوبارہ احتجاج کا عندیہ دیا ہے۔














