وینزویلا کی قائم مقام صدر ڈیلسی رودریگز نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت وارننگ کے بعد اپنے لہجے میں نمایاں نرمی لاتے ہوئے امریکا کو تعاون کی پیشکش کر دی۔
یہ بھی پڑھیں: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس، چین اور روس کا وینزویلا کے صدر اور اہلیہ کی رہائی کا مطالبہ
گارجین کی رپورٹ کے مطابق ڈیلسی نے کہا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ مشترکہ تعاون کے ایجنڈے پر کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔
اپنے بیان میں ڈیلسی رودریگز نے کہا کہ انہوں نے امریکی حکومت کو تعاون پر مبنی ایجنڈے پر مل کر کام کرنے کی دعوت دی ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب صدر ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر میڈورو کی سابق نائب صدر نے ان کی شرائط نہ مانیں تو انہیں مادورو سے بھی بھاری قیمت چکانی پڑ سکتی ہے۔
ڈیلسی رودریگز اس وقت سے وینزویلا کے امور چلا رہی ہیں جب ہفتے کے روز سابق صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلوریس کو امریکی کارروائی میں گرفتار کر کے نیویارک منتقل کیا گیا۔ دونوں کو پیر کے روز مین ہیٹن کی وفاقی عدالت میں پیش کردیا گیا۔
ہفتے کے روز سپریم کورٹ نے ڈیلسی رودریگز سے صدر کا حلف لیا جبکہ اگلے ہی دن وینزویلا کی مسلح افواج کی قیادت نے ان کی اتھارٹی تسلیم کر لی تاہم مادورو اور ان کی اہلیہ کی فوری رہائی کا مطالبہ بھی برقرار رکھا۔
مزید پڑھیے: وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور اہلیہ نیویارک کی عدالت میں پیش، فرد جرم عائد
مادورو کی گرفتاری کے بعد صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکا اب وینزویلا کو چلائے گا اور یہ کہ ڈیلسی رودریگز اسی وقت تک اقتدار میں رہیں گی جب تک وہ وہی کریں گی جو ہم چاہتے ہیں۔ اتوار کو انہوں نے یہ انتباہ بھی دیا کہ اگر باقی حکام نے تعاون نہ کیا تو امریکا دوسری کارروائی بھی کر سکتا ہے۔
ابتدا میں ڈیلسی رودریگز نے سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا تھا کہ وینزویلا کبھی دوبارہ کسی کی کالونی نہیں بنے گا تاہم اتوار کی رات پہلی کابینہ میٹنگ کے بعد انہوں نے مفاہمتی انداز اختیار کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کے ساتھ متوازن اور باوقار تعلقات ان کی ترجیح ہیں۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم امریکی حکومت کو دعوت دیتے ہیں کہ بین الاقوامی قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے مشترکہ ترقی اور پائیدار امن کے لیے تعاون کریں۔
صدر ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمارے عوام اور ہمارا خطہ جنگ نہیں، امن اور مکالمہ چاہتے ہیں اور وینزویلا کو امن، ترقی، خودمختاری اور مستقبل کا حق حاصل ہے۔
مزید پڑھیں: صدر وینزویلا مادورو کے بعد ٹرمپ کا اگلا عسکری قدم کیا ہوگا؟
دوسری جانب رائٹرز کے مطابق امریکی کارروائی کے بعد وینزویلا میں نافذ ایمرجنسی کے تحت پولیس کو ان افراد کی گرفتاری کے احکامات دیے گئے ہیں جو امریکی حملے کی حمایت یا تشہیر میں ملوث پائے جائیں۔














