بنگلہ دیش کی معروف انسانی حقوق کی تنظیم اودھیکار نے بنگلہ دیش بھارت سرحد پر مبینہ ہلاکتوں، تشدد اور جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے کا اعلان کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاک فضائیہ اور بنگلہ دیش ایئر فورس کے درمیان دفاعی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق
تنظیم کا کہنا ہے کہ بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کی جانب سے بنگلہ دیشی شہریوں کے خلاف کارروائیاں مسلسل جاری ہیں۔
اودھیکار کے مطابق احتجاج میں مقتولین کے لواحقین، انسانی حقوق کے کارکنان اور سول سوسائٹی کے نمائندے شریک ہوں گے۔
مظاہرے میں فلانی کیس کو بھی یاد کیا جائے گا جو ایک بنگلہ دیشی نوعمر لڑکی تھی اور سرحد پر ہلاک ہوئی تھی۔ اس واقعے نے خطے اور عالمی سطح پر شدید ردعمل کو جنم دیا تھا۔
تنظیم کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ یہ احتجاج 7 جنوری کو صبح 10 بجے ڈھاکا کے نیشنل پریس کلب کے سامنے منعقد کیا جائے گا۔
مزید پڑھیے: ٹی20 ورلڈ کپ، بھارت میں محفوظ نہیں، بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے ٹیم بھیجنے سے انکار کردیا
اودھیکار کے ڈائریکٹر اے ایس ایم ناصرالدین ایلان نے میڈیا اداروں کو احتجاج کی کوریج کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کی جانب سے بنگلہ دیش کے خلاف جارحانہ رویہ اختیار کیا جا رہا ہے جس پر فوری توجہ اور جوابدہی کی ضرورت ہے۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش میں انتخابات: امن و امان کے لیے سیکیورٹی اداروں کو غیر معمولی اختیارات تفویض
بنگلہ دیش میں انسانی حقوق کی تنظیمیں طویل عرصے سے مطالبہ کرتی آ رہی ہیں کہ سرحدی علاقوں میں بی ایس ایف کی مبینہ زیادتیوں کی آزادانہ تحقیقات کرائی جائیں اور سفارتی سطح پر مؤثر اقدامات کیے جائیں، کیونکہ ان سرحدی کشیدگیوں کا سب سے زیادہ نقصان عام اور بے گناہ شہریوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔














