ٹی20 ورلڈ کپ، بھارت میں محفوظ نہیں، بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے ٹیم بھیجنے سے انکار کردیا

منگل 6 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

.

.

بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ یعنی بی سی بی اپنے اس مؤقف پر قائم ہے کہ قومی ٹیم آئندہ آئی سی سی ٹی20 ورلڈ کپ کے لیے بھارت کا سفر نہیں کرے گی، چاہے ریاستی سطح پر سیکیورٹی فراہم کرنے کی پیشکش ہی کیوں نہ کی جائے۔

بی سی بی حکام کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیشی حکومت نے سیکیورٹی خدشات کے باعث کھلاڑیوں، آفیشلز، صحافیوں اور شائقین کو بھارت بھیجنے سے منع کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان تنازع بڑھ گیا، ڈھاکہ میں آئی پی ایل کی نشریات پر پابندی عائد

اسی بنا پر کرکٹ بورڈ نے باضابطہ طور پر آئی سی سی سے درخواست کی ہے کہ بنگلہ دیش کے میچز کسی غیر جانبدار مقام پر منتقل کیے جائیں، جیسا کہ ماضی میں سیاسی یا سیکیورٹی وجوہات کی بنیاد پردوطرفہ دوروں کے دوران کیا جاتا رہا ہے۔

آئی سی سی اور بی سی بی کے درمیان آن لائن مذاکرات متوقع ہیں، تاہم ڈھاکہ کا مؤقف تاحال تبدیل ہوتا نظر نہیں آ رہا۔

تجویز میں کہا گیا ہے کہ بنگلہ دیش کے میچز کسی دوسرے میزبان ملک میں منتقل کیے جائیں، کیونکہ اس ورلڈ کپ میں پاکستان کے میچز پہلے ہی سری لنکا میں شیڈول ہیں۔

یہ بحث اس وقت مزید شدت اختیار کر گئی جب رپورٹس سامنے آئیں کہ بنگلہ دیش کے فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو انتہا پسند گروہوں کی جانب سے دھمکیوں کے باعث سیکیورٹی خدشات پر آئی پی ایل سے دستبردار کرالیا گیا۔

مزید پڑھیں:بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کا ٹیم بھارت نہ بھیجنے کا اعلان، شاہد آفریدی بول پڑے

بی سی بی حکام کا مؤقف ہے کہ اگر ایک کھلاڑی کی حفاظت یقینی نہیں بنائی جا سکتی تو کھلاڑیوں، شائقین اور میڈیا پر مشتمل پورے وفد کے لیے خطرات کہیں زیادہ بڑھ جاتے ہیں۔

آئی سی سی کے ذریعے بھارتی حکام نے ریاستی سطح پر سیکیورٹی فراہم کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم بی سی بی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ حکومتی ہدایات کے خلاف نہیں جا سکتے۔

اگر آئی سی سی نے بنگلہ دیش کی درخواست مسترد کردی اور بی سی بی نے ٹیم بھیجنے سے انکار کر دیا تو مخالف ٹیموں کو واک اوور مل سکتا ہے۔

مزید پڑھیں:بھارتی اجارہ داری ختم، ایشین کرکٹ کونسل کے مستقبل سے متعلق سابق پی سی بی چیف کا اہم دعویٰ

اگرچہ سخت پابندیوں کا امکان بھی موجود ہے، مگر بنگلہ دیشی حکام کو یقین ہے کہ عالمی کرکٹ ادارہ ان سیکیورٹی خدشات کی سنگینی کو تسلیم کرے گا۔

ادھر ٹورنامنٹ سے چند ہفتے قبل متعدد میچز کی منتقلی ایک بڑا انتظامی چیلنج ہو گی، جس کے لیے شیڈولنگ، براڈکاسٹنگ اور دیگر کرکٹ بورڈز کے ساتھ معاہدوں میں تبدیلی درکار ہو گی۔

فی الحال بی سی بی کا کہنا ہے کہ وہ کسی تصادم کے خواہاں نہیں، بلکہ صرف یہ یقین دہانی چاہتے ہیں کہ کھلاڑی اور شائقین محفوظ ماحول میں مقابلہ کرسکیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

رائٹرز کی مالک کمپنی نے عالمی پرنٹ کاروبار کے 51 فیصد حصص 50 کروڑ ڈالر میں فروخت کردیے

میٹا پر طبی مسائل کے شکار ملازمین کو برطرفیوں میں نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کا الزام

حکومت نے ہمیشہ مذاکرات کا راستہ اپنایا، تشدد ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیا گیا، طارق فضل چوہدری

ذہنی تھکن سے پریشان ہیں؟ صدیوں پرانے طریقے آج بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں

اداروں اور شہدا سے متعلق استعمال کیے گئے الفاظ ناقابل قبول، مولانا فضل الرحمان معافی مانگیں : حافظ میاں محمد نعمان

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟