بنگلہ دیش میں تفتیشی حکام نے انقلاب منچو تحریک کے نمایاں شاہد شریف عثمان بن ہادی کے قتل کے مقدمے میں 17 ملزمان کے خلاف چارج شیٹ عدالت میں جمع کرا دی۔
یہ بھی پڑھیں: عثمان ہادی کے قتل میں ملوث کسی فرد کو نہیں بخشا جائے گا، بنگلہ دیش
ڈھاکا میٹروپولیٹن پولیس کی ڈیٹیکٹیو برانچ کے مطابق یہ قتل مبینہ طور پر تیز الاسلام چوہدری کے حکم اور منصوبہ بندی پر کیا گیا جو ایک مقامی سیاسی شخصیت اور سابق وارڈ کونسلر رہ چکے ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ عثمان ہادی کو اس وجہ سے نشانہ بنایا گیا کیونکہ وہ کالعدم سیاسی گروہوں پر کھل کر تنقید کرتے تھے اور آزاد امیدوار کے طور پر انتخابات میں حصہ لینے کا ارادہ رکھتے تھے۔ؔ
پولیس کے مطابق فائرنگ کرنے والے ملزم فیصل کریم اور اس کے 2 ساتھی جنہیں براہ راست اس واقعے میں ملوث قرار دیا گیا ہے تاحال گرفتار نہیں ہو سکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ان ملزمان کے بھارت فرار ہونے کا شبہ ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اب تک اس مقدمے سے تعلق رکھنے والے 12 افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔
مزید پڑھیے: ڈھاکہ، انقلاب منچہ کے ترجمان عثمان ہادی پر حملے کے ملزمان کی شناخت ہوگئی
عثمان ہادی پر گزشتہ سال دسمبر میں ڈھاکا میں اس وقت حملہ کیا گیا جب وہ رکشے میں سفر کر رہے تھے۔ شدید زخمی حالت میں انہیں علاج کے لیے سنگاپور منتقل کیا گیا جہاں وہ دورانِ علاج جانبر نہ ہو سکے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اگر مزید شواہد سامنے آئے تو اضافی چارج شیٹ بھی جمع کرائی جا سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: بھارتی دہشتگردی کا شکار بنگلہ دیشی طالب علما رہنما عثمان ہادی کون تھا؟
یہ مقدمہ بنگلہ دیش میں خاصی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے جبکہ انسانی حقوق کی تنظیمیں اور عثمان ہادی کے حامی انصاف کی فوری فراہمی اور ذمہ داران کے احتساب کا مطالبہ کر رہے ہیں۔














