تھائی لینڈ کی فوج نے کہا ہے کہ کمبوڈیا کی جانب سے سرحدی فائرنگ کے ایک واقعے میں تھائی فوج کا ایک اہلکار زخمی ہو گیا جسے جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے تاہم کمبوڈیا کی فوج کا مؤقف ہے کہ یہ واقعہ دانستہ نہیں بلکہ ایک حادثاتی کارروائی تھا۔
یہ بھی پڑھیں:َ تھائی لینڈ اور کمبوڈیا میں فوری جنگ بندی پر اتفاق
تھائی فوج کے مطابق منگل کی صبح کمبوڈین فورسز نے تھائی لینڈ کے صوبے اوبون راتچاتھانی میں مارٹر گولے داغے جس کے نتیجے میں ایک فوجی شیل کے ٹکڑوں سے زخمی ہوا۔ زخمی اہلکار کو طبی امداد کے لیے منتقل کر دیا گیا ہے۔
بعد ازاں تھائی فوج نے ایک اور بیان میں کہا کہ کمبوڈیا کی جانب سے رابطہ کیا گیا اور وضاحت دی گئی کہ تھائی حدود میں فائرنگ کا کوئی ارادہ نہیں تھا اور یہ واقعہ کمبوڈین اہلکاروں کی آپریشنل غلطی کے باعث پیش آیا۔؎
تھائی فوج نے کمبوڈیا کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نوعیت کا کوئی واقعہ دوبارہ پیش آیا تو جوابی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
کمبوڈیا کی وزارت دفاع کی ترجمان مالی سوچیٹا نے اس مبینہ حملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
مزید پڑھیے: تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان سرحدی جھڑپیں دوبارہ شدت اختیار کر گئیں، امریکی ثالثی بے اثر
تھائی وزیرِاعظم انوتن چرنویراکول نے کہا ہے کہ ان کی حکومت نے اس واقعے پر کمبوڈیا کے دارالحکومت نوم پنہ میں باضابطہ احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عسکری سطح پر واقعے کو حادثہ قرار دیا گیا ہے تاہم تھائی لینڈ اس بات کی وضاحت چاہتا ہے کہ ذمہ داری کیسے طے کی جائے گی۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ تھائی لینڈ کے پاس کمبوڈیا کو جواب دینے کی مکمل صلاحیت موجود ہے تاہم فی الحال سرحدی علاقوں میں رہائشیوں کے انخلا کا کوئی حکم جاری نہیں کیا گیا البتہ صوبائی حکام کو تیار رہنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔
مزید پڑھیں: صدر ٹرمپ کا ایک مہینے میں دوسری بار تھائی لینڈ اور کمبوڈیا میں جنگ بندی کا اعلان
واضح رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان 27 دسمبر کو جنگ بندی پر اتفاق ہوا تھا جس کے بعد دسمبر میں ہونے والی شدید جھڑپوں کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے لاکھوں افراد کی واپسی کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔
پرانا سرحدی تنازع
تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان دہائیوں پرانا تنازع نوآبادیاتی دور میں کھینچی گئی 800 کلومیٹر طویل سرحد کی حد بندی سے جڑا ہوا ہے جہاں دونوں ممالک بعض علاقوں اور قدیم مندروں پر دعویٰ کرتے ہیں۔
جنگ بندی کے تحت دونوں ممالک نے فائر بندی، فوجی نقل و حرکت روکنے اور بارودی سرنگوں کی صفائی میں تعاون پر اتفاق کیا تھا۔
31 دسمبر کو تھائی لینڈ نے 18 کمبوڈین فوجیوں کو رہا کیا تھا جسے خیرسگالی اور اعتماد سازی کا اقدام قرار دیا گیا۔ تاہم سرحدی حد بندی کا مسئلہ تاحال حل طلب ہے۔
یہ بھی پڑھیے: تھائی لینڈ میں وزیر اعظم نے پارلیمان تحلیل کر دی، جلد انتخابات کا اعلان
کمبوڈیا نے اس ماہ صوبہ سیئم ریپ میں دوطرفہ سرحدی کمیٹی کے اجلاس کی تجویز دی ہے جبکہ تھائی لینڈ کا کہنا ہے کہ سرحدی معاملات پر بات چیت ممکنہ طور پر آئندہ حکومت کے قیام کے بعد کی جائے گی کیونکہ ملک میں 8 فروری کو انتخابات متوقع ہیں۔














