اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کے معاملے پر مؤقف واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر 8 فروری کے بعد کی صورتحال پر بات کرنی ہے تو ہم تیار ہیں، تاہم یہ مذاکرات موجودہ پارلیمنٹ کو ختم کرنے کے لیے ہوں گے، اگر مجبور کیا گیا تو ہم اسمبلیوں سے مستعفی ہو جائیں گے۔
راولپنڈی میں فیکٹری ناکے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہاکہ 8 فروری کو 25 کروڑ عوام کی رائے تبدیل کی گئی، انتخابات میں جیتنے والوں کو ہرایا گیا اور ہارنے والوں کو کامیاب قرار دیا گیا۔ مذاکرات اسی ناانصافی پر ہوں گے۔
مزید پڑھیں: عمران خان سے پھر کسی کو ملاقات کی اجازت نہ ملی، علیمہ خان کا کارکنان کے ساتھ دھرنا
ان کا کہنا تھا کہ خطہ تیزی سے کشیدگی کی طرف جا رہا ہے اور حالیہ عالمی واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ حالات نہایت نازک ہیں۔
ہم اسمبلیاں چھوڑ دیں گے،محمود خان اچکزئی کا اسمبلیوں سے باہر نکلنے کا عندیہ pic.twitter.com/6Wi1STAxgY
— Arslan Baloch (@balochi5252) January 6, 2026
سربراہ تحریک تحفظ آئین نے کہاکہ سیاسی جماعتوں کا تحفظ آئین کے مطابق بات چیت میں ہے، اور مذاکرات کا مقصد پارلیمنٹ کی بالادستی بحال کرنا ہونا چاہیے۔
انہوں نے واضح کیاکہ بات چیت اس نکتے پر ہوگی کہ موجودہ پارلیمنٹ کو ختم کرکے عبوری حکومت قائم کی جائے، جو الیکشن کمشنر کی تقرری کے بعد شفاف انتخابات کرائے۔
محمود اچکزئی نے اعلان کیاکہ 8 فروری کو ملک بھر میں احتجاج کیا جائے گا، جس میں کارکنان اپنے اپنے علاقوں میں آواز بلند کریں گے۔
ان کے مطابق تاجروں، رکشہ ڈرائیوروں اور ٹریڈ یونینز کو بھی احتجاج میں شامل کیا جائےگا، اور مطالبہ جمہوری پاکستان کی تعمیر نو ہوگا۔
عمران خان سے جیل میں ملاقات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہنیں ملاقات کے لیے آتی ہیں تو اس سے کوئی آسمان نہیں گر جاتا، ملاقاتوں کے عدالتی احکامات موجود ہیں اس کے باوجود واٹر کینن کا استعمال کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ان کا نعرہ ظلم کے خاتمے کا ہے، وہ نہ گالی دیں گے اور نہ پتھراؤ کریں گے۔ ان کے مطابق اڈیالہ جیل آمد عمران خان کی بہنوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
محمود خان اچکزئی نے کہاکہ دنیا میں سنگین جرائم میں ملوث افراد کو بھی ملاقات کی سہولت دی جاتی ہے، لہٰذا بانی پی ٹی آئی عمران خان کی فیملی کو بھی ملاقات کا حق حاصل ہے۔
انہوں نے کہاکہ ایک صوبے کا وزیراعلیٰ اپنے قائد سے مل کر ہدایات لینا چاہتا ہے جو ایک فطری بات ہے۔
علاقائی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اگر ایران پر حملہ ہوتا ہے تو ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم کہاں کھڑے ہوں گے، اور ہمیں اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ انتہائی احتیاط سے تعلقات آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے خبردار کیاکہ اگر ریاستی ادارے سیاست میں مداخلت کریں گے تو وہ آواز بلند کریں گے۔
عوام سے اپیل کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ 8 فروری کو گھروں سے نکلیں، کسی کو یہ نہیں بتایا جائے گا کہ کہاں جانا ہے۔
انہوں نے 26 نومبر کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس روز عوام پر گولیاں چلائی گئیں۔
محمود خان اچکزئی نے کہاکہ بانی پی ٹی آئی عمران خان پاکستان کے مقبول ترین رہنماؤں میں سے ایک ہیں، اگر وہ غلط تھے تو انہیں وزیراعظم کیوں بنایا گیا۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی مذاکرات سے قبل اپنے کیے پر دنیا کے سامنے معافی مانگے، وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ
انہوں نے کہاکہ اگر غلطی بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہے تو ملاقات کی اجازت دی جائے تاکہ انہیں آگاہ کیا جا سکے، اور اگر غلطی دوسری طرف ہے تو کیا وہ اس کا اعتراف کریں گے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ مسائل کے حل کے لیے تمام فریقین کو بیٹھ کر اپنی غلطیوں کی اصلاح کرنی ہوگی۔













