پی ٹی آئی کا ملٹری آپریشن سے متعلق پالیسی پر نظرِ ثانی کا مطالبہ

بدھ 7 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان تحریک انصاف نے ڈی جی آئی ایس پی آر کے حالیہ بیانات پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک مقبول سیاسی قائد اور سابق وزیرِاعظم کے بارے میں سیاسی نوعیت کے اور حقائق کے منافی بیانات نہ صرف جمہوری اقدار کے خلاف ہیں بلکہ ریاستی اداروں کے وقار کو بھی متاثر کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:خیبر پختونخوا میں دہشتگردوں کو سازگار ماحول میسر ہے، وزیراعلیٰ کا بیانیہ کھل کر سامنے آگیا، ڈی جی آئی ایس پی آر

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے ’ایکس‘ پر جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ عمران خان پاکستان کے مقبول ترین اور عوامی اعتماد رکھنے والے رہنما ہیں جبکہ پاکستان تحریک انصاف اس وقت ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کی حیثیت رکھتی ہے۔ ایسے میں کسی ریاستی ادارے کے ترجمان کی جانب سے سیاسی نوعیت کے بیانات آئینی روح اور جمہوری اصولوں کے منافی ہیں۔

بیان میں واضح کیا گیا کہ ممکنہ ملٹری آپریشن کی مخالفت صرف پاکستان تحریک انصاف تک محدود نہیں بلکہ خیبر پختونخوا کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں اور مختلف مکاتبِ فکر اس بات پر متفق ہیں کہ ملٹری آپریشن کسی بھی مسئلے کا دیرپا حل نہیں ہوتا۔

سہیل آفریدی کے مطابق اصل مسئلہ دہشتگردی کے خلاف سنجیدگی کا نہیں بلکہ فیصلہ سازی کے عمل کا ہے، جس میں زمینی حقائق، منتخب نمائندوں، صوبائی حکومت اور مقامی آبادی کو اعتماد میں نہیں لیا جا رہا۔

بیان میں کہا گیا کہ خیبر پختونخوا کے کئی اضلاع میں آج بھی عوام عدمِ تحفظ، معاشی جمود اور نقل مکانی کے خدشات کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ کاروبار، تعلیم اور روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سہیل آفریدی کا دورہ کراچی، پی ٹی آئی نے جلسے کی اجازت طلب کرلی

سہیل آفریدی کے مطابق خیبر پختونخوا میں اب تک 22 بڑے ملٹری آپریشنز اور تقریباً 14 ہزار انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کیے جا چکے ہیں، اس کے باوجود دہشتگردی کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں ہو سکا، جو پالیسی سازی اور عمل درآمد میں خامیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر ماضی کی حکمتِ عملی بھاری جانی و مالی نقصانات کے باوجود کامیاب نہ ہو سکی تو اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ ایک نیا ملٹری آپریشن پائیدار امن قائم کر سکے گا۔ بیان میں زور دیا گیا کہ شفافیت، واضح اہداف اور قابلِ پیمائش نتائج کے بغیر کسی نئے اقدام سے مزید غیر یقینی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

سہیل آفریدی کے مطابق دہشتگردی کے خلاف جنگ میں خیبر پختونخوا کے عوام نے تقریباً 80 ہزار جانوں کی قربانی دی، ایسے میں صوبے کے عوام یا ان کے جمہوری مینڈیٹ کو دہشتگردی سے جوڑنا نہایت افسوسناک اور قومی یکجہتی کے لیے نقصان دہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:مذاکرات موجودہ پارلیمنٹ کو ختم کرنے کے لیے ہوں گے، محمود اچکزئی، اسمبلیوں سے استعفوں کا بھی عندیہ

انہوں نے یہ بھی کہا کہ پارٹی خود دہشتگردی کا نشانہ بنتی رہی ہے اور اس کے متعدد عہدیداران، منتخب نمائندگان اور وزراء جان کی قربانیاں دے چکے ہیں۔ ایسے میں غیر ذمہ دارانہ الزامات نہ صرف نفرت کو ہوا دیتے ہیں بلکہ خطرناک سیاسی تاثر بھی پیدا کرتے ہیں۔

سہیل آفریدی نے آخر میں مطالبہ کیا کہ دہشتگردی اور بدامنی کے مسئلے کے حل کے لیے یکطرفہ فیصلوں اور پریس کانفرنسوں کے بجائے خیبر پختونخوا اسمبلی میں تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں اور مکاتبِ فکر پر مشتمل قومی جرگے کے متفقہ اعلامیے پر عمل کیا جائے اور مستقبل کی پالیسی سازی عوامی نمائندوں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے کی جائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بلوچستان کابینہ کے تاریخی فیصلے، گوادر میں 14 ارب ڈالر کے بڑے گیس ٹرمینل کی منظوری

ایم کیو ایم پاکستان کے مرکز بہادر آباد میں اندرونی اختلافات پر تصادم، فائرنگ اور پتھراؤ، متعدد رہنما اور کارکنان زخمی

سوات کبل پولیس اسٹیشن کے باہر خودکش دھماکہ، پولیس جوانوں سمیت 14 افراد جاں بحق، 18 سے زیادہ زخمی

آزاد کشمیر انتخابات: وادی کی 5 نشستوں کے نتائج آگئے، ن لیگ نے 3، پیپلز پارٹی نے 2 نشستیں جیت لیں

آزاد کشمیر انتخابات میں بدترین دھاندلی ہوئی، ایسے نتائج کسی صورت قبول نہیں ہوں گے، راجا پرویز اشرف

ویڈیو

فیفا میں اعتماد کا بحران، انفانٹینو کی قیادت ناقابل قبول قرار

40 سال کی کم ترین سطح پر پہنچنے والے ین کو سہارا دینے کے لیے ٹوکیو اور واشنگٹن متحرک

براڈ پیک پر برفانی تودے سے ہلاک نرمل پرجا کی لاش مل گئی، ریسکیو آپریشن جاری

کالم / تجزیہ

جاوید میانداد کی ایک ناقابل فراموش اننگز کا تذکرہ

غزہ کے بچوں کی دلدوز شاعری   

پاکستان کویت شراکت داری کا نیا دور