پاکستان تحریک انصاف نے ڈی جی آئی ایس پی آر کے حالیہ بیانات پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک مقبول سیاسی قائد اور سابق وزیرِاعظم کے بارے میں سیاسی نوعیت کے اور حقائق کے منافی بیانات نہ صرف جمہوری اقدار کے خلاف ہیں بلکہ ریاستی اداروں کے وقار کو بھی متاثر کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:خیبر پختونخوا میں دہشتگردوں کو سازگار ماحول میسر ہے، وزیراعلیٰ کا بیانیہ کھل کر سامنے آگیا، ڈی جی آئی ایس پی آر
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے ’ایکس‘ پر جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ عمران خان پاکستان کے مقبول ترین اور عوامی اعتماد رکھنے والے رہنما ہیں جبکہ پاکستان تحریک انصاف اس وقت ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کی حیثیت رکھتی ہے۔ ایسے میں کسی ریاستی ادارے کے ترجمان کی جانب سے سیاسی نوعیت کے بیانات آئینی روح اور جمہوری اصولوں کے منافی ہیں۔
عمران خان صاحب پاکستان کے مقبول اور عوامی اعتماد رکھنے والے قبول ترین لیڈر ہیں اور پاکستان تحریک انصاف اس وقت ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کی حیثیت رکھتی ہے۔ ایسے میں ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے پاکستان کے ایک مقبول سیاسی قائد اور سابق وزیرِاعظم کے بارے میں سیاسی نوعیت کے اور…
— Sohail Afridi (@SohailAfridiISF) January 6, 2026
بیان میں واضح کیا گیا کہ ممکنہ ملٹری آپریشن کی مخالفت صرف پاکستان تحریک انصاف تک محدود نہیں بلکہ خیبر پختونخوا کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں اور مختلف مکاتبِ فکر اس بات پر متفق ہیں کہ ملٹری آپریشن کسی بھی مسئلے کا دیرپا حل نہیں ہوتا۔
سہیل آفریدی کے مطابق اصل مسئلہ دہشتگردی کے خلاف سنجیدگی کا نہیں بلکہ فیصلہ سازی کے عمل کا ہے، جس میں زمینی حقائق، منتخب نمائندوں، صوبائی حکومت اور مقامی آبادی کو اعتماد میں نہیں لیا جا رہا۔

بیان میں کہا گیا کہ خیبر پختونخوا کے کئی اضلاع میں آج بھی عوام عدمِ تحفظ، معاشی جمود اور نقل مکانی کے خدشات کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ کاروبار، تعلیم اور روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سہیل آفریدی کا دورہ کراچی، پی ٹی آئی نے جلسے کی اجازت طلب کرلی
سہیل آفریدی کے مطابق خیبر پختونخوا میں اب تک 22 بڑے ملٹری آپریشنز اور تقریباً 14 ہزار انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کیے جا چکے ہیں، اس کے باوجود دہشتگردی کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں ہو سکا، جو پالیسی سازی اور عمل درآمد میں خامیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر ماضی کی حکمتِ عملی بھاری جانی و مالی نقصانات کے باوجود کامیاب نہ ہو سکی تو اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ ایک نیا ملٹری آپریشن پائیدار امن قائم کر سکے گا۔ بیان میں زور دیا گیا کہ شفافیت، واضح اہداف اور قابلِ پیمائش نتائج کے بغیر کسی نئے اقدام سے مزید غیر یقینی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

سہیل آفریدی کے مطابق دہشتگردی کے خلاف جنگ میں خیبر پختونخوا کے عوام نے تقریباً 80 ہزار جانوں کی قربانی دی، ایسے میں صوبے کے عوام یا ان کے جمہوری مینڈیٹ کو دہشتگردی سے جوڑنا نہایت افسوسناک اور قومی یکجہتی کے لیے نقصان دہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں:مذاکرات موجودہ پارلیمنٹ کو ختم کرنے کے لیے ہوں گے، محمود اچکزئی، اسمبلیوں سے استعفوں کا بھی عندیہ
انہوں نے یہ بھی کہا کہ پارٹی خود دہشتگردی کا نشانہ بنتی رہی ہے اور اس کے متعدد عہدیداران، منتخب نمائندگان اور وزراء جان کی قربانیاں دے چکے ہیں۔ ایسے میں غیر ذمہ دارانہ الزامات نہ صرف نفرت کو ہوا دیتے ہیں بلکہ خطرناک سیاسی تاثر بھی پیدا کرتے ہیں۔
سہیل آفریدی نے آخر میں مطالبہ کیا کہ دہشتگردی اور بدامنی کے مسئلے کے حل کے لیے یکطرفہ فیصلوں اور پریس کانفرنسوں کے بجائے خیبر پختونخوا اسمبلی میں تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں اور مکاتبِ فکر پر مشتمل قومی جرگے کے متفقہ اعلامیے پر عمل کیا جائے اور مستقبل کی پالیسی سازی عوامی نمائندوں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے کی جائے۔














