کیوبا کی حکومت نے امریکی فوج کی طرف سے وینزویلا میں صدر نیکولس مادورو کی گرفتاری کے دوران ہلاک ہونے والے 32 کیوبن فوجی افسران کے نام، رینک اور عمر کی تفصیلات جاری کر دیں ہیں، جبکہ ملک نے 2 روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ امریکی حکام نے اس کارروائی کو ’قانون نافذ کرنے کی مہم‘ قرار دیا ہے، تاہم بین الاقوامی تناؤ بڑھ گیا ہے۔
کیوبا کی سرکاری میڈیا اور حکومتی ذرائع نے بتایا ہے کہ 32 کروبی فوجی اہلکار امریکی فوج کی کارروائی کے دوران ہلاک ہوئے، جو کہ وینزویلا کے سابق صدر نیکولس مادورو کی گرفتاری کے لیے انجام دی گئی۔ ان ہلاک شدگان میں کرنل، لیفٹیننٹس، میجرز اور کیپٹنز سمیت کچھ رضاکار سپاہی شامل ہیں، جن کی عمر 26 سے 60 سال کے درمیان بتائی گئی ہے۔
🤯🤯 There was no resistance from Maduro's guards, oh my god, 32 of Maduro Cuban guards were killed by Delta Force.
–the Delta Force attack was carried out too early in the morning so maybe they fought Delta Force while they were sleepy. pic.twitter.com/xtd1aaF9Y4
— WAR CHANGE (@ilm84423) January 7, 2026
متاثرہ اہلکار کیوبن ریولوشنری آرمد فورسز اور داخلہ وزارت کی سیکیورٹی ایجنسیوں کے رکن تھے۔ ان افسران کے مشنز یا ہلاکت کے بالکل حالات ابھی تک واضح نہیں کیے گئے۔ اس کے باوجود سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ حملے کے دوران مزاحمت کرتے ہوئے یا بمباری کے نتیجے میں شہید ہوئے۔
کیوبا نے ان افسران کی یاد میں 2 روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا اور ان کی تصویریں سادہ زیتون سبز فوجی یونیفارم میں نشر کی گئیں۔ ریاستی ٹی وی نے ان کی تفصیلات کے ساتھ ان کی تصاویر بھی شائع کیں۔
The United States is facing widespread condemnation, even from its allies, for its military operation against #Venezuela and the abduction of its president, Nicolas Maduro. #US https://t.co/qGppFyL0vr pic.twitter.com/vuZcYiYVf8
— China Daily (@ChinaDaily) January 7, 2026
کیوبا کے وزیر خارجہ برونو روڈریگِز نے خبردار کیا ہے کہ اگر بھی کسی قسم کی امریکی مداخلت کی کوشش ہوئی تو کیوبن عوام اپنی جانیں دینے کے لیے تیار ہیں اور ہر قسم کی جارحیت کا مقابلہ کریں گے۔ انہوں نے امریکی صدر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکی رہنما کیوبن عوام کو ٹھہرنے اور دھمکیاں دینے کی غلط سوچ رکھتے ہیں۔
اس کارروائی کے نتیجے میں وینزویلا کی عبوری حکومت نے 7 دن کے قومی سوگ کا اعلان کیا ہے، جب کہ علاقائی اور عالمی سطح پر اس پر سخت ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔













