بھارتی ہٹ دھرمی کا توڑ: حکیم محسن نقوی کی کڑوی گولی

بدھ 7 جنوری 2026
author image

اویس لطیف

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

برصغیر میں کرکٹ کو سیاست، اندرونی ملکی حالات اور انتخابی ماحول کے تابع کرنے کے بھارتی اقدامات جن کا شکار کبھی پاکستان ہوا کرتا تھا اب خود انڈیا بھگت رہا ہے، پاکستان کےساتھ طویل عرصے تک یک طرفہ بائیکاٹ کے بعد ہائیبرڈ ماڈل کے تحت معاملات طے پا جانے کے بعد انڈیا کو بنگلہ دیش کی صورت میں نیا چیلنج درپیش ہے جو اس کو وہی میڈیسن کھلا رہا ہے جو بھارت دو دہائیوں سے پاکستان کو پیش کرتا آیا ہے۔

بنگلہ دیشی قائم مقام حکومت اور کرکٹ بورڈ نے انڈیا میں ہونے والے ٹی 20 ورلڈ کپ میں شرکت سے مکمل طور پر انکار کردیا ہے اور آئی سی سی سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے میچز کسی نیوٹرل وینیو پرمنتقل کیے جائیں کیونکہ بنگلہ دیشی ٹیم انڈیا میں محفوظ نہیں ہے۔ انڈین میڈیا، کھلاڑی، بورڈ کے سابقہ آفیشلز یہاں تک کہ سیاستدان تمتملا رہے ہیں اور مسلسل طعنہ زنی کی جا رہی ہے کہ بنگلہ دیش کی اتنی جرات کہ وہ انڈیا آنے سے انکار کرے۔

کوئی بنگلہ دیش کی بطور ملک تشکیل میں انڈیا کے کردار اور ’احسانات‘ گنوا رہا ہے اور کوئی ٹیسٹ اسٹیٹس کے حصول کیلیے بھارتی بورڈ کی کاوشوں کا تذکرہ کر رہا، بھارتی کرکٹ تبصرہ نگار سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ بنگلہ دیش کبھی اتنا بڑا اور واضح قدم اٹھا سکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس سارے عمل کے پیچھے کون ہے، کس نے اس بے مہار بی سی سی آئی کو نتھ ڈال دی ہے جس بھارتی کرکٹ کنٹرول کے سامنے انگلینڈ آسٹریلیا جیسے بورڈز بھی بھیگی بلی بن چکے تھے اور بھارتی کرکٹ بورڈ نے اپنی دولت کے بل بوتے پر آئی سی سی کو گھر کی باندی بنا لیا تھا۔

سینکڑوں ارب کے مالک بھارتی بورڈ جو عالمی کرکٹ کا 70فیصد پیسہ دیتا ہے کوئی اس کی ناراضگی مول لینے کو تیار نہ تھا اور یوں لگ رہا تھا کہ اب کرکٹ میں وہ ہوگا جو بھارتی بورڈ چاہے گا اور کرکٹ کے عالمی فیصلوں، میگا ایونٹس کی میزبانی کی بندر بانٹ یہاں تک کے قوانین کے نفاذ میں بھی بھارتی ٹیم اور کھلاڑیوں کو واضح برتری حاصل ہوگی، جس کا کئی بار اظہار بھی ہوا مگر پھر میدان میں آیا محسن نقوی بلکہ حکیم محسن نقوی۔

محسن نقوی بطور چیئرمین پی سی بی بہت تنقید کی زد میں رہے ہیں، کپتانوں کی مسلسل تبدیلی، ہوم گراؤنڈ پر ٹیم کی خراب کارکردگی، بالخصوص ٹیسٹ مقابلوں میں مگر شتر بے مہار بی سی سی آئی کو جو نکیل محسن نقوی نے ڈالی ہے بنگلہ دیش کا انکار اسی تھپڑ کی گونج ہے جو محسن نقوی نے بھارتی بورڈ کو گزشتہ سال اس وقت مارا جب بھارت نے ایشیاء کپ اور چیمپیئنز ٹرافی کیلیے پاکستان آنے سے انکار کر دیا اور وجہ بتائی کھلاڑیوں کو درپیش سیکیورٹی خدشات۔

میڈیا اور کمیونیکیشن بیگ گراؤنڈ سے تعلق رکھنے والے ایک زمانے میں سی این این کے ایشیاء کیلیے بیورو چیف رہے محسن نقوی بھارت اور بھارتی نفسیات کو شاید اچھے سے جانتے تھے نے واضح، دو ٹوک اور ’ون لائنر‘ موقف اختیار کیا کہ اگر انڈیا کو پاکستان آنے میں خدشات ہیں تو پاکستانی بھی دہلی، ممبئی، لکھنو اور بنگال میں محفوظ نہیں اس لیے جب تک بھارت کا طاقت کا بخار نہیں اترتا تب تک دونوں ممالک کے درمیان کرکٹ کو رواں رکھنے کیلیے مستقل اور پائیدار میکنزم کی ضرورت ہے۔ یہاں سے سامنے آیا ہائیبرڈ نظام، جس کے تحت نہ تو پاکستان انڈیا جائے گا اور نہ انڈیا پاکستان آئے گا مگر دونوں ممالک نیوٹرل وینیو پر عالمی مقابلوں کی میچز کھیلیں گے۔ یعنی حکیم محسن نقوی انڈیا کو وہی پھکی کھلانے میں کامیاب رہے جو پاکستان کئی برس سے کھا رہا تھا۔

حکیم محسن نقوی کے اسی زوردار موقف نے ایشیاء کے باقی چھوٹے بورڈز کو حوصلہ دیا کہ بھارت کوئی کرکٹ کا خدا نہیں وہ بھی آئی سی سی کا ایک ووٹ ہے اور آپ بھی ایک ووٹ ہیں اپنی طاقت پہچانیں۔ یہ محسن نقوی تھا جس ایشیاء میں بھارت کو بار بار ایشیئن کرکٹ کونسل میں بھی شکست دی جس کو بھارت اپنی جیب میں سمجھتا تھا۔

انڈین ٹیم نے محسن نقوی سے چیمپئنز ٹرافی وصول کرنے سے انکار کیا تو محسن نقوی پھر ڈٹ گیا اور آج بھارتی بورڈ اور آفیشلز چیمئینز ٹرافی لینے کے لیے کئی دروازے کھٹکھٹا رہے ہیں۔ محسن نقوی کے اس جارحانہ موقف کا نتیجہ ہے کہ آج بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے بھی بھارت جا کر ورلڈ کپ میچز کھیلنے سے انکار کر دیا ہے جس کی وجہ سے اب بی سی سی آئی سخت پریشان پھر رہا ہے کہ یہ کیا کام شروع ہو گیا اور اسی پریشانی کا اظہار بھارتی میڈیا کی چیختی چنگھاڑتی سکرینوں پر دکھائی دے رہا ہے۔

انڈیا نے کرکٹ کو جو کہ اس خطے کا سب سے مقبول کھیل ہے اور کروڑوں کی تعداد میں لوگ اس کھیل سے محبت کرتے ہیں، اپنی گندی سیاست کی بھینٹ چڑھانا شروع کر دیا تھا پیسے کے بل پر وہ سمجھتے تھے کہ کرکٹ ویسے چلتی جیسے ہم چاہیں گے آج مگر یہ صورتحال بدلتی دکھائی دیے رہی ہے۔ پاکستان کا انکار تو انڈیا کو ہضم ہوگیا مگر بنگلہ دیشی جومنکر ہوئے اس کو ڈکارنا بھارتیوں کے بس میں نہ ہو شاید، کیونکہ حکیم محسن نقوی کی ایجاد کردہ کڑوی گولی بنگلہ دیش نے بھی بھارت کو پیش کردی ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

جی 7 ممالک کا اہم فیصلہ، خام تیل کی قیمت میں نمایاں کمی

ایران کے پاس ابھی کئی سپرائزز موجود ہیں، ایرانی وزیر خارجہ کا امریکا کو انتباہ

پورٹ قاسم پر تیل بردار جہاز کی ہنگامی برتھنگ شروع،مزید 2 جہاز جلد پاکستان پہنچے گے

مشرق وسطیٰ بحران: وزیراعظم کی جانب سے کیے گئے کفایت شعاری اقدامات کیا ہیں؟

اسلام آباد: پریس کلب انڈرپاس ٹریفک کے لیے بند، متبادل راستے کیا ہیں؟

ویڈیو

تیل کی قیمتوں میں اضافہ، حالات کنٹرول سے باہر ہونے کا خدشہ، امریکا و اسرائیل کو بھاری نقصان، ٹرمپ کی چیخیں

نقاب میں شناخت، چارسدہ کی نوجوان کنٹینٹ کریئیٹر کی کہانی

ڈی بال کی راتیں: رمضان المبارک میں لیاری کی گلیوں کی رونق

کالم / تجزیہ

انڈین کرکٹ ٹیم مسلسل ناقابل شکست کیسے بنی؟

کیا یہ امریکا کی آخری جنگ ہے؟

موکھی متارا: کراچی کی ایک تاریخی داستان