جی 7 ممالک کا اہم فیصلہ، خام تیل کی قیمت میں نمایاں کمی

پیر 9 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

آبنائے ہرمز کی بندش اور تیل تنصیبات پر حملوں کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اچانک شدید اضافہ دیکھنے میں آیا، تاہم جی 7 ممالک کی جانب سے ہنگامی ذخائر استعمال کرنے کے عندیے کے بعد قیمتیں تیزی سے نیچے آنا شروع ہوگئیں۔

یہ بھی پڑھیں: جنگِ ایران کے باعث خام تیل کی قیمتیں 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئیں

پیر کے روز کاروبار کے دوران برطانوی خام تیل برینٹ کی قیمت بڑھ کر 119.50 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی جبکہ امریکی خام تیل ڈبلیو ٹی آئی بھی تقریباً 119.48 ڈالر فی بیرل کی سطح تک جا پہنچا، جو حالیہ برسوں کی نمایاں بلند ترین سطحوں میں شمار کی گئی۔ عالمی منڈی میں یہ اضافہ ایک ہی دن میں تقریباً 30 فیصد تک ریکارڈ کیا گیا۔

ماہرین کے مطابق خلیج عرب میں کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی بندش نے سپلائی کے حوالے سے شدید خدشات پیدا کیے، جس کے باعث تاجروں اور سرمایہ کاروں میں بے چینی بڑھی اور قیمتیں تیزی سے اوپر چلی گئیں۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی رسد کی اہم گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کے برابر تیل اور بڑی مقدار میں قدرتی گیس روزانہ گزرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران جنگ کے باعث عالمی منڈی میں ہلچل، خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر

صورتحال کے پیش نظر جی 7 ممالک متحرک ہوگئے اور فرانس کی زیر صدارت وزرائے خزانہ کا ہنگامی ورچوئل اجلاس منعقد ہوا جس میں عالمی منڈی کو مستحکم کرنے کے لیے تیل کے ہنگامی ذخائر استعمال کرنے کی تجویز زیر غور آئی۔ اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات اختیار کیے جائیں گے۔

فرانسیسی وزیر خزانہ نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر ذخائر جاری کرنے کا امکان موجود ہے اور صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے، جبکہ یورپ اور امریکا میں فی الحال ایندھن کی فراہمی متاثر نہیں ہوئی۔

عالمی توانائی ایجنسی کے سربراہ نے اجلاس کو بتایا کہ رکن ممالک کے پاس ہنگامی استعمال کے لیے 1.2 ارب بیرل سے زائد سرکاری ذخائر موجود ہیں، اس کے علاوہ تقریباً 600 ملین بیرل صنعتی ذخائر بھی حکومتی نگرانی میں دستیاب ہیں۔ اس سے پہلے یہ ذخائر 2022 میں روس یوکرین جنگ کے بعد عالمی منڈی کو سہارا دینے کے لیے استعمال کیے گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: پاک-امریکا تعلقات میں نئے دور کا آغاز، خام تیل سے بھرا پہلا جہاز آج پاکستان پہنچ گیا

جی 7 ممالک کے ممکنہ اقدام کے اشارے سامنے آنے کے بعد عالمی منڈی کا رجحان بدل گیا اور قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ برینٹ خام تیل جو 119.50 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا تھا کم ہو کر تقریباً 98.69 ڈالر فی بیرل رہ گیا، جبکہ امریکی خام تیل ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت بھی کم ہو کر 95.65 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں صورتحال معمول پر نہ آئی تو عالمی توانائی منڈی میں اتار چڑھاؤ برقرار رہ سکتا ہے، تاہم بڑے ممالک کے ذخائر استعمال کرنے کے امکانات نے فوری طور پر منڈی کو سہارا فراہم کیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سپریم کورٹ کے فیصلے کیخلاف سماعت کے لیے بڑا بینچ ضروری نہیں، وفاقی آئینی عدالت

سعودی عرب میں نایاب ریم غزال کی جنگلی ماحول میں افزائشِ نسل دوبارہ شروع

پاکستان کی کامیاب سفارتکاری دنیا بھر میں تسلیم، مسئلہ کشمیر ہماری خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے، رانا قاسم نون

معروف اداکارہ محض 35 برس کی عمر میں انتقال کرگئیں

پاکستان اور برطانیہ میں اقتصادی تعاون بڑھانے پر اتفاق، اصلاحات اور علاقائی استحکام پر تفصیلی تبادلۂ خیال

ویڈیو

امریکا اور ایران کے درمیان معاملات طے، بلوچستان کے کاروبار پر اس کے کیا اثرات ہوں گے؟

خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان

ایران امریکا فریم ورک معاہدہ کیا ہے اور آئندہ ہونے والے تکنیکی مذاکرات میں کیا طے ہو گا؟

کالم / تجزیہ

امن معاہدہ اور پاکستان

پنجاب کا حق، ایتھے رکھ

سرحدوں سے ماورا یاری: سید بابر علی اور ہرچرن سنگھ