گزشتہ 5 برسوں کے دوران لاہور چڑیا گھر میں مجموعی طور پر 70 قیمتی اور نایاب جانوروں اور پرندوں کی ہلاکت ہوئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق سال 2020 کے دوران مفلون شیب، ریچھ اور شیر سمیت مجموعی طور پر 12 جانور ہلاک ہوئے۔ سال 2021 میں ٹائیگر، سفید شیرنی اور افریقی شیر سمیت 13 جانور موت کے منہ میں چلے گئے۔
یہ بھی پڑھیے: شیرنی اور اسکا بچہ ہلاک کرنے کے جرم میں پانچ شکاری پانچ سال کے لیےقید
اسی طرح 2022 میں افریقی شیرنی، نیل گائے، ہرن اور ریچھ سمیت 12 قیمتی جانور ہلاک ہوئے۔ 2023 اور 2024 کے دوران تیندوا، افریقی شیرنی اور بندروں سمیت مجموعی طور پر 21 جانوروں کی ہلاکت رپورٹ کی گئی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگست 2025 تک مارخور، نایاب نسل کے ہرن اور دیگر قیمتی جانوروں سمیت مزید 12 جانور ہلاک ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق جانوروں کی زیادہ تر اموات کی وجوہات انفیکشن اور سانس کی بیماریاں بنیں، جبکہ کئی نایاب اور قیمتی جانور حادثات، شدید گرمی اور موسم کی شدت کے باعث جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
یہ بھی پڑھیے: سان ڈیاگو چڑیا گھر کی سب سے قدیم رہائشی کا 141 سال کی عمر میں انتقال
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ زیادہ تر اموات مختلف بیماریوں کی وجہ سے ہوئیں، کچھ حادثاتی تھیں جبکہ چند جانوروں کی ہلاکت کی وجوہات تاحال نامعلوم قرار دی گئی ہیں۔ مزید یہ کہ 2025 میں ہلاک ہونے والے زیادہ تر نئے درآمد شدہ جانور ماحول سے ہم آہنگ نہ ہو پانے کے باعث جانبر نہ ہو سکے۔














