ضلع دکی کی ایک مقامی کوئلہ کان میں میتھین گیس بھرنے سے ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں کان کا ایک حصہ بیٹھ گیا جس کے باعث ایک کان کن ملبے تلے دب کر جاں بحق ہو گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کان کنی کی پیداوار میں 4.9 فیصد اضافہ ریکارڈ
چیف انسپکٹر مائنز عبدالغنی کے مطابق واقعے کے بعد ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا جو تقریباً 20 گھنٹے تک جاری رہا جس کے بعد جاں بحق کان کن کی لاش نکال لی گئی۔
دکی کا یہ افسوسناک واقعہ بلوچستان میں کوئلہ کانوں میں پیش آنے والے مسلسل حادثات کی ایک اور کڑی ہے جہاں کان کن آئے روز اپنی جانیں گنوا رہے ہیں۔
پاکستان سینٹرل مائنز لیبر فیڈریشن کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق سال 2025 کے دوران بلوچستان میں کوئلہ کانوں کے مختلف حادثات میں مجموعی طور پر 89 کان کن جاں بحق ہوئے۔ صرف دسمبر کے مہینے میں 7 حادثات پیش آئے جن میں 8 کان کن لقمہ اجل بنے۔
لیبر فیڈریشن کے مطابق بلوچستان میں کانوں میں حادثات کی شرح ملک کے دیگر صوبوں کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے۔
سال 2025 کے دوران خیبر پختونخوا میں 41، پنجاب میں 14 جبکہ سندھ میں 6 کان کن جاں بحق ہوئے جبکہ سب سے زیادہ اموات بلوچستان میں ریکارڈ کی گئیں۔ مزید برآں گزشتہ 8 برسوں کے دوران صوبے میں مجموعی طور پر 618 کان کن اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
پاکستان سینٹرل مائنز لیبر فیڈریشن کے رہنما سلطان محمد خان کا کہنا ہے کہ کوئلہ کانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کو دم گھٹنے، زہریلی گیس بھرنے، کانوں کی چھتیں گرنے، دھماکوں اور پھیپھڑوں کی خطرناک بیماریوں جیسے شدید خطرات کا سامنا رہتا ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ کان کنوں کی جانوں کا تحفظ ان کا بنیادی حق ہے جسے ہر صورت یقینی بنایا جائے۔
مزید پڑھیے: دکی کوئلہ کان حملہ، کانکنی معطل، ہزاروں مزدوروں کے بےروزگار ہونے کا خدشہ
دکی کا حالیہ حادثہ اس تلخ حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ بلوچستان میں کوئلہ کان کنی اب بھی ایک انتہائی غیر محفوظ شعبہ ہے۔ حفاظتی اقدامات کی کمی، گیس ڈیٹیکشن سسٹمز کا فقدان، غیر مؤثر نگرانی اور کان مالکان کی جانب سے لاپرواہی ایسے حادثات کی بنیادی وجوہات بن چکی ہیں۔
اگرچہ کوئلہ کان کنی صوبے کی معیشت میں اہم کردار ادا کرتی ہے تاہم کان کنوں کی جانوں کا مسلسل ضیاع اس شعبے میں فوری اور سنجیدہ اصلاحات کا تقاضا کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق جدید حفاظتی ٹیکنالوجی، باقاعدہ معائنہ، سخت قانونی کارروائی اور ریسکیو نظام کی بہتری کے بغیر ان حادثات کو روکنا ممکن نہیں۔
مزید پڑھیں: فتنۃ الخوارج کی نام نہاد شریعت کا پول کھل گیا، کان کنی کے کاروبار پر 5 فیصد بھتہ طلب
بلوچستان میں کان کنوں کا تحفظ محض ایک مطالبہ نہیں بلکہ ریاست، متعلقہ اداروں اور کان مالکان کی مشترکہ ذمہ داری ہے جس کی ادائیگی میں تاخیر مزید انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بن سکتی ہے۔













