فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے بنگلہ دیش فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل حسن محمود خان نے ملاقات کی، جس میں دوطرفہ دفاعی تعلقات، پیشہ ورانہ عسکری تعاون اور خطے کی مجموعی سلامتی کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی ہائی کمشنر کی ڈھاکا میں بنگلہ دیشی ایئرچیف سے ملاقات
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات کے دوران پیشہ ورانہ عسکری تعاون، مشترکہ تربیتی پروگرامز اور تربیتی تبادلوں کے فروغ پر خصوصی زور دیا گیا۔ فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ دفاعی تعاون میں وسعت پاک بنگلہ دیش تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔
پاک فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو خراج تحسین
اس موقع پر بنگلہ دیش فضائیہ کے سربراہ نے پاک فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو خراج تحسین پیش کیا اور خطے میں امن و استحکام کے لیے پاک فوج کے کردار کی تعریف کی۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بنگلہ دیش کے ساتھ دیرپا دفاعی تعلقات کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش نیول اکیڈمی میں شاندار ونٹر پریزیڈنشل پریڈ، پاس آؤٹ ہونے والے کیڈٹس کو باضابطہ کمیشن دیا گیا

نیول ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں اہم ملاقات
قبل ازیں بنگلہ دیش فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل حسن محمود خان نے نیول ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل نوید اشرف سے بھی ملاقات کی۔ ملاقات میں باہمی پیشہ ورانہ دلچسپی کے امور، بدلتی ہوئی علاقائی سلامتی کی صورتحال اور دوطرفہ دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات پر گفتگو ہوئی۔
بحری امن و استحکام کے لیے تعاون
پاک بحریہ کے سربراہ نے خطے میں بحری امن و استحکام کے لیے پاکستان نیوی کے اقدامات پر روشنی ڈالی، جبکہ بنگلہ دیش ایئر چیف نے پاکستان نیوی کے اعلیٰ پیشہ ورانہ معیار کو سراہتے ہوئے دونوں برادر ممالک کی مسلح افواج کے درمیان تعاون بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ فریقین نے اعلیٰ سطحی تبادلوں اور مشترکہ تربیتی مشقوں میں اضافہ کرنے پر بھی اتفاق کیا۔
یہ بھی پڑھیں: شیخ حسینہ کی برطرفی نے بنگلہ دیش میں بھارت کی مداخلت ختم کردی، بنگلہ دیشی صحافی
دفاعی تعلقات میں مزید گہرائی
بنگلہ دیش فضائیہ کے سربراہ کا دورہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان مضبوط ہوتے دفاعی تعلقات کا عکاس قرار دیا جا رہا ہے، جو دونوں ممالک کی عسکری قیادت کے باہمی روابط اور اعتماد کو مزید تقویت دے گا۔














