فیض حمید کا منصوبہ قبائلی علاقوں کو طالبان کے حوالے کرنا تھا، میاں افتخار حسین

جمعہ 9 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما اور سینیئر سیاست دان میاں افتخار حسین کا کہنا ہے کہ عمران خان دور میں فیض حمید کا منصوبہ قبائلی علاقوں کو طالبان کے حوالے کرنا تھا۔

وی نیوز کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ فیض حمید نے قبائلی علاقوں کو طالبان کے حوالے کرنے کا منصوبہ بنایا تھا جبکہ عمران خان دن رات جنرل باجوہ کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے تھے۔

میاں افتخار حسین نے کہا کہ عمران خان کے دور میں جو کچھ ہوا وہ سب کو معلوم ہے کہ کون کس کو لا کر آباد کر رہا تھا۔

 اپنے انٹرویو میں میاں افتخار حسین نے صوبے کی امن و امان کی صورتحال، سیاسی معاملات اور افغان امور پر بھی تفصیلی گفتگو کی۔

میاں افتخار حسین نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں 3 بار مسلسل برسراقتدار رہنے کے باوجود پاکستان تحریک انصاف امن و امان بہتر بنانے اور دہشتگردی کے خاتمے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور اس مسئلے کے خاتمے کے لیے اس کے پاس کوئی بہتر منصوبہ بھی نہیں ہے۔

’دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا چاہیے‘

میاں افتخار حسین نے کہا کہ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے اور اسے جڑ سے ختم کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ سنہ 2014 میں آرمی پبلک اسکول حملے کے بعد نیشنل ایکشن پلان میں آپریشن کی اجازت دی گئی تھی مگر اب اس پر کوئی عمل درآمد نہیں ہو رہا۔

میاں افتخار حسین نے کہا کہ فیصلے بھی ہیں، اجازت بھی لیکن سب فائلوں میں بند ہیں، کوئی باہر نہیں آ رہا۔

انہوں نے کہا کہ مسئلے کے حل کے لیے ہر وہ قدم اٹھانا چاہیے جس کی ضرورت ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ جہاں ضرورت ہو مذاکرات کیے جائیں اور جہاں ضرورت ہو وہاں آپریشن کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ کوئی حکومت اونرشپ لینے کو تیار نہیں جبکہ اے این پی نے اپنے دور اقتدار میں مالاکنڈ میں مذاکرات بھی کیے اور آپریشن بھی جس کے نتیجے میں وہاں آج بھی امن ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ فیض حمید نے بہت کوشش کی لیکن وہاں امن خراب نہیں کر سکے۔

 انہوں نے کہا کہ اب بھی پنجاب میں کالعدم تنظیمیں سرگرم ہیں ان کے خلاف آپریشن سے آغاز ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ سب کے خلاف آپریشن ہونا چاہیے، جڑ سے خاتمہ اس کے بغیر ممکن نہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں امن کا تعلق افغانستان سے ہے اور دونوں جانب قیام امن کے لیے کوششیں ہونی چاہییں۔

انہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی فرنٹ لائن پر دہشتگردی کے خلاف کھڑی رہی ہے اور آج بھی نشانہ بن رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وفاق اور صوبائی حکومتیں ایک دوسرے پر الزام تراشی کر رہی ہیں مگر حقیقی معنوں میں اقدامات نہیں اٹھائے جا رہے۔

میاں افتخار حسین نے کہا کہ دہشتگردی آج یا کل کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ 45 سال سے زائد عرصے سے درپیش ہے جو بنیادی طور پر ضیاء الحق کی پیداوار ہے۔

’ہمارے نصاب میں اب بھی ‘ب’ بندوق پڑھایا جاتا ہے‘

انہوں نے کہا کہ ضیاء الحق کے دور میں روس امریکا جنگ میں پاکستان کود پڑا اور تب سے اس مسئلے کا کوئی حل نہیں نکل سکا۔

ان کا کہنا تھا کہ روس امریکہ کی لڑائی میں اسلام اور جہاد کو شامل کیا گیا اور نصاب کی کتابوں میں بھی یہ سب داخل کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اب بھی نصاب کی کتابوں میں ’ب‘ سے بندوق پڑھایا جاتا ہے جبکہ باقی صوبوں میں ’ب‘ سے بکری پڑھائی جاتی ہے حتیٰ کہ ریاضی میں جمع اور تقسیم کے سوالات میں بھی بندوقوں کو جمع یا تقسیم کیا جاتا ہے۔

’پی ٹی آئی کے پاس قیام امن کے لیے کوئی پلان نہیں‘

اے این پی کے مرکزی رہنما نے پی ٹی آئی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ تیسری بار ہے کہ صوبے میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے لیکن امن و امان کی صورتحال انتہائی ابتر ہے۔

انہوں نے کہا کہ جنوبی اضلاع میں حکومت خود سرکاری اہلکاروں کو رات کے وقت باہر نہ نکلنے کی ہدایات دے رہی ہے۔

میاں افتخار حسین نے استفسار کیا کہ اگر سرکاری لوگ ہی رات کو نہیں نکلیں گے تو پھر حکومت کس کی ہوگی؟

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے امن و امان پر آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد کیا اور سب نے تجاویز دیں مگر عملی طور پر کچھ نہیں ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس حکومت کے پاس دہشتگردی کم کرنے کا کوئی واضح پلان نہیں اور انہیں خود بھی نہیں معلوم کہ کیا کرنا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا یہ دھاندلی زدہ پی ٹی آئی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔

میاں افتخار حسین نے خیبر پختونخوا حکومت کو دھاندلی زدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں ہار جائیں اور صرف پی ٹی آئی ہی کامیاب ہو۔

’خیبرپختونخوا حکومت دھاندلی کے نتیجے میں آئی‘

انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ حکومت دھاندلی کے نتیجے میں آئی ہے اور تصادم کی سیاست پر عمل پیرا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تیسری بار حکومت کے باوجود پی ٹی آئی عوام کو ریلیف دینے اور امن قائم کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔

میاں افتخار حسین نے کہا کہ یہ حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے خواہ امن ہو، بے روزگاری ہو یا معیشت سب کچھ تباہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی توجہ اڈیالہ تک محدود ہے اور حکومت عمران خان کی رہائی کے لیے سرگرم ہے جبکہ عوام کا کوئی پرسان حال نہیں۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان جیل میں ہیں تو آخرکار رہا ہو جائیں گے لہٰذا پی ٹی آئی کو حکومتی امور پر توجہ دینی چاہیے اور سیاسی اختلافات ایک طرف رکھ کر وفاق کے ساتھ ٹیبل ٹاک کرنی چاہیے۔ میاں افتخار حسین کی مزید گفتگو سنیے خبر میں شامل ویڈیو میں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

’میں روز گل پلازہ کے اندر موجود اپنے پوتے کے لیے یہاں آکر بیٹھ جاتی ہوں‘، بزرگ خاتون غم سے نڈھال

بیلجیئم کے فوٹو جرنلسٹ کی کشمیری زندگی پر مبنی کتاب 26 جنوری کو لانچ ہوگی

غزہ پیس آف بورڈ میں روسی صدر پیوٹن کے شامل ہونے کے امکانات پر برطانیہ کا ردعمل سامنے آگیا

کراچی: صحافی شہاب سلمان کی گرفتاری، پریس کلب و صحافی تنظیموں کی مذمت

حدیقہ کیانی الخدمت فاؤنڈیشن کے تعاون سے غزہ کی بیوہ خواتین اور یتیم بچوں کے لیے برطانیہ میں فنڈ ریزنگ کریں گی

ویڈیو

’میں روز گل پلازہ کے اندر موجود اپنے پوتے کے لیے یہاں آکر بیٹھ جاتی ہوں‘، بزرگ خاتون غم سے نڈھال

شریف خاندان کی شاہی شادی، ڈمی رانا ثنا اللہ کی خصوصی گفتگو

میڈیا چینلز میں عشق عمران میں کون مبتلا؟ گل پلازہ میں چوریاں، پاکستان غزہ امن بورڈ کا حصہ بن گیا

کالم / تجزیہ

گل پلازہ کی آگ سے بننے والے دائرے

محمود خان اچکزئی نئے اپوزیشن لیڈر، نیا میثاق جمہوریت ہو گا؟

ہمارے شہر مر رہے ہیں