کراچی کے سینیئر صحافی اے ایچ خانزادہ نے وی نیوز سے خصوصی گفتگو میں رحمان بلوچ اور چوہدری اسلم سے متعلق کہا کہ ان دونوں افراد سے میرا ذاتی تعلق تھا۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت میں اخبار نویس تھا اور میرا تعلق روزنامہ جسارت سے تھا، اور میں اس شہر میں بری رپورٹنگ کیا کرتا تھا جسے عرفِ عام میں کرائم رپورٹنگ کہا جاتا ہے۔
اے ایچ خانزادہ کا کہنا ہے کہ اس زمانے میں، جہاں ہر اخبار کے 3-3 کرائم رپورٹر ہوا کرتے تھے، میں اپنے ادارے کے لیے اکیلا کام کرتا تھا، اور اسی وجہ سے میرا نیٹ ورک وسیع تھا۔ چوہدری اسلم دراصل اسلم خان تھا، چوہدری نام تو انہیں بعد میں دیا گیا۔ اسلم خان کا تعلق پنجاب سے نہیں بلکہ خیبر پختونخوا کے ہزارہ ڈویژن سے تھا اور میرا تعلق اسلم خان سے ان کے پولیس میں آنے سے پہلے کا تھا۔
اے ایچ خانزادہ کے مطابق بہت کم لوگ ایسے تھے جن کی ڈانٹ ڈپٹ بھی اسلم خان سن لیا کرتے تھے، جن میں وہ خود شامل تھے، اور یہ سب پولیس اور صحافت سے ہٹ کر ایک ذاتی تعلق کی بنیاد پر تھا۔ جبکہ رحمان بلوچ کا لیاری میں ایک کریمنل ریکارڈ ضرور تھا۔ رحمان کے والدین کا بھی تھوڑا بہت کریمنل ریکارڈ تھا، تو ایک اخبار نویس کی حیثیت سے جتنی معلومات رحمان سے متعلق ہونی چاہییں، اتنی موجود تھیں۔
اے ایچ خانزادہ کا کہنا ہے کہ جب اسلم خان نے رحمان کو گرفتار کیا تو لیاری ٹاسک فورس کے دفتر میں اسے رکھا گیا تھا، لیکن اس کی گرفتاری ابھی ظاہر نہیں کی گئی تھی۔ اسلم خان سے میں نے کہا کہ سنا ہے تم نے ایک اہم بندہ گرفتار کر لیا ہے، تو اسلم نے کہا کہ شام میں دفتر آ جاییے۔ جب ان کے دفتر میں پہنچا تو میری آواز سننے پر رحمان نے کہا کہ صحافی آ گئے کیا؟ تو اسلم خان نے پوچھا کہ یہ آپ کو جانتے ہیں؟ تو میں نے کہا کہ بہت اچھے سے جانتے ہیں۔ شہر میں اچھے اور برے دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں، اور یہ دونوں ایک دوسرے کو اچھی طرح جانتے ہیں۔
اے ایچ خانزادہ کا مزید کہنا ہے کہ رحمان کی گرفتاری بلوچستان کے کسی علاقے سے عمل میں آئی تھی، جبکہ وائٹ ہاؤس پر جب مقابلہ ہوا تھا، اس میں کوئی گرفتاری نہیں ہوئی تھی بلکہ پولیس افسران زخمی ہوئے تھے۔ اس کے بعد جب رحمان گرفتار ہوا تو چوہدری اسلم اور اس کا پورا گروپ کسی اور کیس میں جیل چلا گیا۔ یہ معاملہ معشوق بروہی کا تھا، جس کا کاغذات میں نام نورل بروہی تھا، جبکہ اصل میں وہی معشوق بروہی تھا۔
اس معاملے کا نتیجہ یہ نکلا کہ رحمان ڈکیت، جو حراست میں تھا، فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ لیکن گرفتاری ظاہر نہ کرنے کی وجہ سے قانونی طور پر نہ رحمان گرفتار ہوا اور نہ ہی فرار۔ جب چوہدری اسلم اور دیگر افسران معشوق بروہی کیس سے باہر آئے تو انہوں نے خفیہ اطلاع پر رحمان کو مار دیا۔
اے ایچ خانزادہ کے مطابق رحمان کا جتنا کریمنل ریکارڈ بنایا گیا، وہ اتنا تھا نہیں۔ جہاں تک عزیر بلوچ کی بات ہے تو وہ رحمان کی لیگیسی میں آیا، اور اس پر کریمنل چارجز پینٹ کیے گئے۔ رحمان کے والد 50 برس قبل اس شہر کے ایک معزز ٹرانسپورٹر تھے۔ رحمان کو اقبال بابو ڈکیت کی لیگیسی میں ڈکیت کہا گیا۔ عزیر بلوچ نے پیپلز امن کمیٹی قائم کی، اور اس وقت کے وزیر داخلہ ذوالفقار مرزا کا ان سے تعلق تھا۔











