.
چیئرمین پرائم منسٹر یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان نے کہا ہے کہ انہیں ماضی میں دانستہ طور پر ٹارگٹ کیا گیا اور ان کے خلاف جھوٹے مقدمات بنائے گئے۔
تاہم ہائیکورٹس اور دیگر عدالتوں میں کوئی بھی ثبوت پیش نہ کیا جا سکا، جس کے بعد انہیں کلین چٹ ملی۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا مشہود کا کہنا تھا کہ جب وہ نوجوانوں کے لیے عملی بنیادوں پر یوتھ انیشی ایٹو پروگرامز پر کام کر رہے تھے تو بعض عناصر کو یہ سرگرمیاں پسند نہیں آئیں۔
یہ بھی پڑھیں: فیض حمید ریٹائرمنٹ کے بعد عمران خان کے سیاسی مشیر رہے، عطا تارڑ کا دعویٰ
’ہم نوجوانوں کو نعرے نہیں بلکہ گراس روٹ لیول پر جا کر انگیج کر رہے تھے، یہی وجہ تھی کہ جنرل فیض کے ساتھ مل کر مجھے ٹارگٹ کیا گیا۔‘
انہوں نے کہا کہ ان کے خلاف بنائے گئے تمام مقدمات اسی دور میں ختم ہو گئے کیونکہ عدالتوں نے جب شواہد طلب کیے تو استغاثہ کوئی ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا۔
’میں اب اسے مکافاتِ عمل سمجھتا ہوں، جن لوگوں نے دوسروں کی زندگیاں خراب کرنے کی کوشش کی، آج وہ خود انجام کا سامنا کر رہے ہیں۔‘
مزید پڑھیں: فیض حمید لوگوں کو سرد خانے میں لاشوں کے ساتھ قید کرتے تھے، جاوید چوہدری کے چونکا دینے والے انکشافات
رانا مشہود نے کہا کہ اس وقت میڈیا پر بعض کرداروں کو غیر معمولی پرائم ٹائم دیا گیا، مگر آج وہ سب کہاں ہیں؟
’جب نیب سے مجھے کلین چٹ ملی تو میں نے اپنی لیگل ٹیم سے واضح کہا کہ اب میں ازالے کے لیے عدالت جاؤں گا۔‘
انہوں نے انکشاف کیا کہ ان پر نہیں بلکہ ان کی فیملی پر بھی شدید دباؤ اور ٹارگٹنگ کی گئی۔
مزید پڑھیں: عمران خان نہیں بچیں گے، وہ فیض حمید کے ساتھ تھے، سینیئر صحافی طلعت حسین
’میں نے کبھی ان باتوں کو عوام کے سامنے نہیں رکھا، ہم رونے والے نہیں، سامنا کرنے والے لوگ ہیں، مگر میری فیملی نے بہت کچھ برداشت کیا۔‘
رانا مشہود کا کہنا تھا کہ انہوں نے پہلے دن ہی کہا تھا کہ وہ اس دنیا کی عدالتوں میں بھی اور اللہ کی عدالت میں بھی حساب دیں گے۔
’میں نے پوری زندگی صاف نیت سے اور ایمانداری سے کام کیا ہے، اب مقدمہ اللہ کی عدالت میں تو ہے ہی، مگر پاکستان کی عدالتوں میں بھی میں انصاف کے لیے جا رہا ہوں۔‘













