برطانیہ شدید برفانی طوفان ’گوریٹی‘ کی زد میں ہے، جس نے ملک کے کئی حصوں میں زندگی کو مفلوج کردیا ہے۔ تیز ہوائیں، شدید برفباری اور ناقابل پیشگوئی موسم نے شہریوں کو گھروں تک محدود کر دیا ہے، جبکہ سڑکیں اور ریلوے سروسز شدید متاثر ہو رہی ہیں۔
مزید پڑھیں: منگولیا میں برفانی طوفان اور شدید سردی سے 30 لاکھ مویشی ہلاک، ملک میں ایمرجنسی نافذ
برطانیہ کے متعدد اسکول بند کر دیے گئے ہیں جبکہ ہنگامی خدمات کے اداروں کو شہریوں کو محفوظ رکھنے کے لیے الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ برطانوی میڈیا کے مطابق لندن، مانچسٹر اور اسکات لینڈ کے کچھ حصوں میں برفباری کی شدت کے سبب حادثات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔
ماہرین نے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور حفاظتی اقدامات اپنائیں، کیونکہ طوفان گوریٹی آئندہ 2 دن تک ملک پر اثر ڈالنے کا امکان ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ طوفان حالیہ برسوں میں سب سے شدید موسمی ایمرجنسی ثابت ہو سکتا ہے، اور شہریوں کو محفوظ رہنے کے لیے مکمل تیار رہنا چاہیے۔
برفانی طوفان کو گوریٹی کا نام کیوں دیا گیا
برطانیہ میں جاری شدید برفانی طوفان کو “Storm Goretti” کا نام دیا گیا ہے، جس کی وجہ یورپی موسمیاتی ماہرین کی ایک مشترکہ روایت ہے۔ فرانس کے محکمہ موسمیات (Météo-France) نے سال کے پہلے شدید طوفان کو یہ نام دیا، جو بعد میں برطانیہ سمیت دیگر یورپی ممالک میں بھی استعمال ہوا۔
مزید پڑھیں: امریکا میں طوفانی بگولوں سے ہلاکتوں کی تعداد 26 ہوگئی
ماہرین کے مطابق طوفانوں کو نام دینے کا مقصد عوام کو جلد اور مؤثر انداز میں متنبہ کرنا اور خبردار کرنا ہے، تاکہ شہری اور ایمرجنسی سروسز بہتر تیاری کر سکیں۔ طوفان کے نام عام طور پر خواتین اور مردوں کے ناموں کی فہرست سے منتخب کیے جاتے ہیں، جو ہر سال یورپی موسمیاتی اداروں کی جانب سے تیار کی جاتی ہے۔
Storm Goretti نے فرانس میں پہلے ہی شدید برفباری اور تیز ہواؤں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے، جس کے باعث پیرس کے ائیرپورٹس پر 15 فیصد پروازیں منسوخ ہو گئیں۔ برطانیہ میں بھی طوفان گوریٹی نے شمالی اسکاٹ لینڈ میں 5 سے 10 سینٹی میٹر برفباری کردی، جبکہ یلو آئس وارننگ جاری کر دی گئی ہے۔













