یمن کی مرکزی جنوبی علیحدگی پسند تنظیم سدرن ٹرانزیشنل کونسل (STC) نے سعودی عرب میں ہونے والے مذاکرات کے بعد خود کو تحلیل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
تنظیم کے ارکان کے مطابق یہ فیصلہ جنوبی یمن میں جاری بحران کے خاتمے کے لیے جاری بات چیت کے نتیجے میں کیا گیا۔
ایس ٹی سی کے بعض ارکان اس وقت ریاض میں موجود ہیں جہاں جمعے کے روز جنوبی یمن میں بدامنی کے خاتمے سے متعلق مذاکرات جاری ہیں۔
یہ بھی پڑھیے یمن کے معاملے پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی دانشمندی کو سراہتے ہیں، ترجمان دفتر خارجہ
تنظیم نے سعودی عرب کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات اور پیش کردہ حل کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ جنوبی یمن کے عوام کی ضروریات سے ہم آہنگ ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی میں کمی آ سکتی ہے، جو اس وقت سامنے آئی تھی جب ایس ٹی سی جس کے بارے میں ریاض کا کہنا ہے کہ اسے ابوظہبی کی حمایت حاصل ہے، نے دسمبر میں سعودی حمایت یافتہ یمنی سرکاری افواج کے خلاف کارروائی کی تھی۔
یہ بھی پڑھیے یمن کے امن کے لیے مذاکرات ہی واحد حل ہیں، سعودی وزارت خارجہ
ادھر جمعرات کے روز سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد نے دعویٰ کیا کہ ایس ٹی سی کے سربراہ عیدروس الزبیدی ریاض میں متوقع امن مذاکرات میں شرکت سے گریز کرتے ہوئے صومالی لینڈ کے راستے متحدہ عرب امارات فرار ہو گئے۔
اتحاد نے یو اے ای پر الزام عائد کیا کہ اس نے الزبیدی کو ملک سے خفیہ طور پر نکالنے میں مدد فراہم کی۔














