اتر پردیش میں مدرسہ اور مسجد شہید، مسلم برادری میں شدید تشویش

جمعہ 9 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اتر پردیش میں ہندوتوا حکومت کے تحت ایک اور متنازع اقدام سامنے آیا ہے، جہاں 4 جنوری 2025 کو ضلع سنبھل کے گاؤں حاجی پور میں ایک مسجد اور مدرسہ کو زبردستی مسمار کر دیا گیا۔

اس کارروائی نے مقامی مسلم آبادی میں خوف، غصے اور عدم تحفظ کی فضا پیدا کر دی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ مذہبی و تعلیمی عمارتیں کئی دہائیوں سے زیرِ استعمال تھیں، تاہم حکام نے انہیں سرکاری زمین پر تجاوزات قرار دیتے ہوئے مسمار کر دیا۔

یہ بھی پڑھیے: بنگلہ دیش نے بھارت میں ویزا سروسز عارضی طور پر معطل کردیں

متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ یہ اقدام محض انتظامی کارروائی نہیں بلکہ مسلمانوں کی عوامی زندگی سے موجودگی ختم کرنے اور ہندو اکثریتی غلبے کو مضبوط کرنے کی منظم کوششوں کا حصہ ہے۔

مسجد کے نمائندوں نے سرکاری مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذکورہ زمین قانونی طور پر مذہبی اور تعلیمی مقاصد کے لیے الاٹ کی گئی تھی۔ صورتحال اس وقت مزید سنگین ہو گئی جب حکام نے مسجد کی انتظامی کمیٹی پر 78.8 لاکھ بھارتی روپے جرمانہ بھی عائد کر دیا، جسے متاثرہ برادری نے ناانصافی قرار دیا ہے۔

مقامی علمائے کرام نے ان کارروائیوں کو امتیازی سلوک قرار دیتے ہوئے نشاندہی کی کہ متنازع زمینوں پر قائم ہندو مندروں اور دیگر ڈھانچوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

یہ بھی پڑھیے: بھارتی بزنس مین انیل اگروال کے بیٹے اگنی ویش اگروال انتقال کرگئے

یہ واقعہ کوئی واحد مثال نہیں۔ گزشتہ 14 ماہ کے دوران ضلع سنبھل میں ایک درجن سے زائد اسلامی مقامات کو مسمار یا نقصان پہنچایا جا چکا ہے۔ مزید برآں، 20 دسمبر 2025 کو تاریخی شاہی جامع مسجد سے متصل قبرستان کے قریب واقع دو درجن سے زائد دکانوں اور گھروں کو بھی منہدم کر دیا گیا تھا، جسے مقامی افراد نے انتہائی غیر حساس اقدام قرار دیا۔

مبصرین کے مطابق یہ واقعات بھارت میں اقلیتی برادریوں، بالخصوص مسلمانوں، کے خلاف ریاستی سرپرستی میں اقدامات اور بڑھتے ہوئے خوف کے ماحول کی عکاسی کرتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وزیر اعلیٰ ہو تو سہیل آفریدی جیسا

تیکناف سرحد سے گرفتار تمام 53 افراد کیمپوں میں مقیم روہنگیا مہاجر نکلے، بنگلہ دیشی سرحدی فورسز

کوئٹہ: سرکاری ملازمین کی احتجاجی تحریک کا دوسرا مرحلہ شروع، 15 جنوری کو لاک ڈاؤن کا اعلان

امریکی قبضہ کسی صورت برداشت نہیں کریں گے، گرین لینڈ کا دوٹوک مؤقف

پیپلزپارٹی کا احتجاج: حکومت نے اسپیشل اکنامک زونز ترمیمی آرڈیننس واپس لے لیا

ویڈیو

کیا ونڈر بوائے آ رہا ہے؟ پی ٹی آئی کی آخری رسومات ادا

ٹھیلے سے ریسٹورنٹ تک، سوشل میڈیا کے بل بوتے پر کامیابی کی انوکھی کہانی

’باادب بامراد‘: شاگردوں کا استاد کے لیے بے مثال احترام، گاڑی بطور تحفہ پیش کردی

کالم / تجزیہ

وزیر اعلیٰ ہو تو سہیل آفریدی جیسا

ہیرا ایک ہی ہے

’نہیں فرازؔ تو لوگوں کو یاد آتا ہے‘