بنگلہ دیش نے بھارت میں ویزا سروسز عارضی طور پر معطل کردیں

جمعرات 8 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر بھارت میں اپنے اہم سفارتی مشنز، جن میں نئی دہلی، کولکتہ اور اگر تلہ شامل ہیں، میں ویزا سروسز عارضی طور پر معطل کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

یہ فیصلہ جمعرات کو ایسے وقت میں کیا گیا جب 2024 کے وسط میں ڈھاکا میں سیاسی بحران کے بعد بنگلہ دیش اور بھارت کے درمیان سفارتی کشیدگی برقرار ہے۔ بنگلہ دیش کے مشیر خارجہ ایم توحید حسین نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ قدم احتیاطی تدبیر کے طور پر اٹھایا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: بنگلہ دیش اور یورپی یونین کے درمیان جامع شراکت داری معاہدے پر اہم پیشرفت

ان کا کہنا تھا کہ میں نے بھارت میں ہمارے 3 مشنز کو ہدایت دی ہے کہ وہ وقتی طور پر اپنے ویزا سیکشن بند رکھیں۔ یہ خالصتاً سیکیورٹی کا معاملہ ہے۔

حکام کے مطابق اس معطلی کا اطلاق نئی دہلی، کولکتہ اور اگر تلہ میں واقع بنگلہ دیشی مشنز پر ہوگا، تاہم بزنس اور ورک ویزا اس فیصلے سے مستثنیٰ رہیں گے۔ کولکتہ میں قائم ڈپٹی ہائی کمیشن نے راتوں رات اس فیصلے پر عمل درآمد شروع کر دیا، جبکہ دیگر 2 مشنز میں بھی اسی نوعیت کے اقدامات کیے گئے ہیں۔

دوسری جانب ممبئی اور چنئی میں واقع بنگلہ دیشی قونصل خانوں میں ویزا سروسز بدستور معمول کے مطابق جاری رہیں گی۔ یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان باہمی پابندیوں کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: بنگلہ دیش نے بھارتی شہریوں کے لیے ویزا پابندیاں مزید سخت کردیں

بھارت نے 5 اگست 2024 کے بعد بنگلہ دیشی شہریوں کے لیے ویزا پابندیاں عائد کی تھیں، جن کی وجہ بھی سیکیورٹی خدشات بتائی گئی تھی۔

ماہرین کے مطابق یہ جوابی اقدامات جولائی اور اگست 2024 میں طلبا کی قیادت میں ہونے والے احتجاج کے بعد وزیر اعظم شیخ حسینہ کی عوامی لیگ حکومت کے خاتمے سے پیدا ہونے والی کشیدہ دوطرفہ صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سعودی عرب کی مصنوعی ذہانت کے میدان میں نمایاں عالمی پیش رفت، اے آئی انڈیکس درجہ بندی میں بہتری

بلوچستان میں افسران کی فیلڈ میں موجودگی یقینی بنانے کے لیے ڈیجیٹل مانیٹرنگ کا فیصلہ

سعودی عرب کا پاکستان کے لیے 3 ارب ڈالر اضافی معاونت کا اعلان، 5 ارب ڈالر ڈپازٹ کی مدت میں توسیع

ایران امریکا مذاکرات کا دوسرا دور، جے ڈی وینس، وٹکاف اور جیرڈ کشنر حصہ لیں گے، سی این این

مریم نواز شریف کی وزارت اعلیٰ کے 2 برس، لوگ کیا کہتے ہیں؟

ویڈیو

مریم نواز شریف کی وزارت اعلیٰ کے 2 برس، لوگ کیا کہتے ہیں؟

پاکستان کی ثالثی نے دنیا بھر کی سٹاک مارکیٹ کو بچا لیا

پاکستان، ایران اور امریکا کے درمیان امن معاہدے کے لیے مزید کیا سکتا ہے؟

کالم / تجزیہ

محبت، کتابیں اور دستوئیفسکی کے ’بیچارے لوگ‘

ایران امریکا تصادم کس طرف جا رہا ہے؟

ایک تھی آشا