وزیراعظم شہباز شریف نے زیادہ نقصانات والے بجلی کے فیڈرز کو مقامی آبادی اور صوبائی حکومتوں کے تعاون سے شمسی توانائی پر منتقل کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
یہ ہدایات انہوں نے اسلام آباد میں شمسی توانائی (سولرائزیشن) سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دیں، جس کا مقصد ملک کے دور دراز علاقوں میں بلا تعطل بجلی کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: بلوچستان میں 27 ہزار ٹیوب ویلز کی شمسی توانائی پر منقتلی، وفاق کا اہم اعلان
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اس اقدام سے نقصان میں چلنے والے بجلی کے فیڈرز کے مالی خسارے میں کمی آئے گی اور ان علاقوں کو مسلسل بجلی فراہم کی جا سکے گی۔ انہوں نے پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی (پیسکو) اور کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی (کیسکو) کے زیادہ نقصانات والے فیڈرز پر فوری طور پر پائلٹ منصوبے شروع کرنے کی ہدایت کی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اس بات پر زور دیا کہ ان پائلٹ منصوبوں کی کامیابی کے لیے منتخب عوامی نمائندوں سے مشاورت اور مقامی کمیونٹیز کی بھرپور شمولیت کو یقینی بنایا جائے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ان فیڈرز کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے سے ماحول دوست، کم لاگت اور پائیدار مائیکرو گرڈز قائم کیے جا سکیں گے، جو مقامی آبادی کے لیے فائدہ مند ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان ریلوے کا شمسی توانائی سے مدد لینے کا بڑا منصوبہ، بچت کتنی ہوگی؟
اجلاس میں مزید آگاہ کیا گیا کہ اس منصوبے میں مقامی کمیونٹیز، صوبائی حکومتیں اور وفاقی حکومت مشترکہ شراکت دار ہوں گی۔ شرکاء کو بتایا گیا کہ اس اقدام سے نہ صرف سستی بجلی فراہم ہو گی بلکہ مستقبل میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے نقصانات میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔
وزیراعظم نے منصوبے کی اصولی منظوری دیتے ہوئے ہدایت کی کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں پائلٹ منصوبوں پر کام فوری طور پر شروع کیا جائے۔













