مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما رانا ثنا اللہ نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی طرف سے موجودہ حالات میں کسی بڑی اسٹریٹ موومنٹ کے امکانات دکھائی نہیں دیتے۔
رانا ثنا اللہ نے بتایا کہ پنجاب میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو خوش آمدید کہا گیا اور ان سے ان افراد کے نام بھی زیرِ بحث آئے جو پنجاب اسمبلی میں آنے کے خواہاں تھے لیکن ان کے ساتھ وہ لوگ بھی آئے جن کا نام لسٹ میں نہیں تھا، 35 لوگوں کے نام دے کر 100 سے زائد لوگ آئے۔
یہ بھی پڑھیے: 5 بڑے مل بیٹھ کر مسائل حل کریں، کیا رانا ثنا اللہ کی تجویز عملی طور پر ممکن ہے؟
تحریک انصاف پر تنقید کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ 8 فروری کو پہیہ جام ہڑتال کا اعلان قانون کے دائرے میں ممکن نہیں، کیونکہ قانون کسی بھی قسم کی جبری بندش کی اجازت نہیں دیتا۔ انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا بعض غیر قانونی سرگرمیوں میں مصروف ہیں، یہ سفر غیرقانونی ہے، قانونی طور پر چیلنج کیا جا سکتا ہے۔
رانا ثنا اللہ نے پشاور میں ہونے والے جلسے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں چند ہزار سے زائد افراد شریک نہیں ہو سکے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ تحریک انصاف کی عوامی قوت محدود ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق اگر 8 فروری یا مستقبل میں کسی سٹریٹ موومنٹ میں ناکامی ہوتی ہے تو اس کا براہِ راست سیاسی نقصان اپوزیشن کو ہوگا، جبکہ حکومت کی پوزیشن مزید مضبوط ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: پی ٹی آئی کا 8 فروری کو کوئی شو نہیں ہوگا، یہ پہیہ جام ہڑتال کی صلاحیت نہیں رکھتے، رانا ثنااللہ
9 مئی کے واقعات پر بات کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے کہا کہ انہیں منظم آپریشن قرار دینا حقائق کے منافی اور گمراہ کن بیانیہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان واقعات میں ملوث افراد سے لاتعلقی کے دعوے بھی زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا میں قیادت کے بلند و بانگ دعوے عملی صورتحال سے مختلف ہیں، جبکہ کراچی اور لاہور میں کسی بڑی اسٹریٹ موومنٹ کے واضح آثار نظر نہیں آ رہے۔ رانا ثنا اللہ کے مطابق سیاسی اختلافات کا حل صرف آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر ہی ممکن ہے، تاکہ ملک میں سیاسی استحکام اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنایا جا سکے۔














