وی ایکسکلوسیو، عمران خان غلط فیصلوں کے سبب جیل میں ہیں، باہر آنا مشکل ہے، شیر افضل مروت

ہفتہ 10 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ دہشتگردی کے واقعات پی ٹی آئی کے اقتدار میں آنے سے نہیں آئے، نہ ہی دہشتگردی میں اضافے کا الزام پی ٹی آئی پر ڈالا جا سکتا ہے۔ تاہم پی ٹی آئی کی ایک صوبے میں حکومت موجود ہے اور بطور صوبائی حکومت اسے چاہیے تھا کہ عوام میں دہشتگردی کے خلاف ایک مؤثر تحریک چلاتی، مگر ہمیں پی ٹی آئی کی جانب سے دہشتگردی کے خلاف کوئی سنجیدہ جدوجہد نظر نہیں آئی۔

یہ بھی پڑھیں:شیر افضل مروت محمود اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر نامزد کرنے پر عمران خان کے خلاف بول پڑے

وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے کہا کہ اس وقت پاکستان تحریک انصاف کی قیادت نے ایک ہی بیانیہ بنا رکھا ہے کہ نظام رک گیا ہے اور نظام نے گھٹنے ٹیک دیے ہیں، لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ ان کے مطابق نظام نے پارٹی کو زندہ زمین میں گاڑ دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پارٹی کی موجودہ قیادت سب کچھ کرتی ہے، مگر وہ نہیں کرتی جو عمران خان کہتے ہیں۔ عمران خان احتجاجی تحریک شروع کرنے کا کہتے ہیں، لیکن قیادت کبھی لاہور اور کبھی کراچی چلی جاتی ہے، کبھی سٹریٹ پاور شو کی بات کرتی ہے۔ ان لوگوں کی نیت ہی نہیں کہ عمران خان کو رہائی دلوائی جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب سب سے بڑا صوبہ ہے، لیکن لاہور میں موجودہ قیادت کے ساتھ عوام کی بڑی تعداد کو نکلتے ہوئے نہیں دیکھا گیا۔ اب سندھ حکومت نے مزار قائد میں جلسے کی اجازت دے دی ہے، اگر 11 جنوری کو یہ بڑا جلسہ کرنے میں ناکام ہو جاتے ہیں تو یہ ثابت ہو جائے گا کہ پی ٹی آئی کے کارکن اور عوام موجودہ قیادت کے ساتھ نہیں ہیں۔

شیر افضل مروت نے کہا کہ عمران خان ایک بے گناہ شخص ہیں، انہوں نے کوئی جرم نہیں کیا، لیکن غلط فیصلوں کے باعث جیل میں ہیں اور موجودہ حالات میں ان کا باہر آنا مشکل نظر آ رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:احسن اقبال کے بعد شیر افضل مروت کو بھی لائیو پروگرام روکنا پڑا، ویڈیو کس کی وجہ سے بند کی گئی؟

پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے شیر افضل مروت نے کہا کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کا بھی وہی بیانیہ ہے جو ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنی پریس کانفرنس میں واضح کیا تھا۔ ان کے مطابق ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس کو یاد رکھنا چاہیے، کیونکہ مذاکرات سے کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا اور یہ صرف وقت کا ضیاع ہیں۔

شیر افضل مروت نے کہا کہ عمران ریاض، صابر شاکر، معید پیرزادہ اور شہباز گل 2018 سے 2022 تک جنرل فیض حمید کے قریبی لوگوں میں شامل تھے۔ ان میں سے کسی نے قبضے کیے، کسی نے ہسپتال بنائے اور غیر قانونی کام کیے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ شہباز گل نے لوٹ مار اور موبائل چوری جیسے اقدامات کیے اور گرفتاری کے بعد پارٹی کی خفیہ معلومات لیک کیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہی وجہ ہے کہ رہائی کے بعد ان افراد کو ڈیل کے تحت سہولت فراہم کی گئی اور پاکستان چھوڑنے تک آسانیاں دی گئیں۔

یہ بھی پڑھیں:سہیل آفریدی نے اپنے حلقے میں سیکیورٹی آپریشن کی اجازت دے دی، شیر افضل مروت کا دعویٰ

شیر افضل مروت نے کہا کہ اس وقت یہ لوگ جو بیانیہ بنا رہے ہیں وہ صرف ڈالرز کمانے کا ذریعہ ہے، نہ یہ ان کا دین ہے اور نہ ہی ضمیر۔ ان کے مطابق ضمیر فروش لوگوں سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ سچ بولیں گے یا غیرت کا مظاہرہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے بیانیے نے پارٹی کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

9 مئی میں ملوث افراد کو سزا ملنی چاہیے تاکہ مستقبل میں ایسا کوئی واقعہ دوبارہ نہ ہو، فیصل کریم کنڈی

بنگلہ دیش کے قومی سلامتی کے مشیر کی واشنگٹن میں امریکی حکام سے اہم ملاقاتیں، دوطرفہ اقتصادی تعان پر تبادلہ خیال

وفاقی وزیر اطلاعات کی عشرت فاطمہ کے گھر آمد، پی ٹی وی میں بطور مینٹور شمولیت کی پیشکش

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آئندہ 15 روز کے لیے برقرار

بغیر ایم ٹیگ گاڑیوں کا اسلام آباد میں داخلہ آج رات 12 بجے کے بعد ممنوع

ویڈیو

بسنت منانے کی خواہش اوورسیز پاکستانیوں کو بھی لاہور کھینچ لائی

مردان کے ریڈ بلڈ بیڑوچ مالٹے کی خاص بات کیا ہے؟

وی ایکسکلوسیو: نہ کوئی ونڈر بوائے آرہا ہے نہ ٹیکنوکریٹس اس ملک کے مسائل حل کرسکتے ہیں: مصدق ملک

کالم / تجزیہ

’شام ڈھل جائے تو محسنؔ تم بھی گھر جایا کرو‘

ٹرمپ کی اخلاقی جڑیں

کریٹیکل منرلز، دنیا کی سب سے بڑی مائننگ کمپنی کونسی، ریکوڈک فیصلہ کن