وفاقی حکومت نے اسلام آباد میں پانی کے بڑھتے ہوئے بحران سے نمٹنے کے لیے ہنگامی ایکشن پلان نافذ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
ہفتے کے روز وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت اسلام آباد میں اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں وفاقی دارالحکومت اور جڑواں شہروں میں پانی کی فراہمی بہتر بنانے کے لیے قلیل اور طویل المدتی اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد کے کن علاقوں میں پانی کی سپلائی کم کی جارہی ہے اور کیوں؟
اجلاس میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری، وزیراعظم کے مشیر سید توقیر شاہ، وزارت داخلہ، کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی، واپڈا اور راولپنڈی انتظامیہ کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بڑھانے اور ترسیلی نظام کو مضبوط بنانے سے متعلق مختلف تجاویز پر غور کیا گیا۔
اسلام آباد میں پانی کی کمی کے سدباب کیلئے جامع پلان پر ہنگامی بنیادوں پر عملدرآمد کا فیصلہ
اجلاس کو چراہ، دوتارہ اور شاہدرہ ڈیم منصوبوں پر جامع بریفنگ دی گئی
وزیر داخلہ محسن نقوی نے روڈ میپ پر عملدرآمد کا جامع پلان 10 روز میں طلب کر لیا pic.twitter.com/9Cm4i2Sbq9— Ghazanfar Abbas (@ghazanfarabbass) January 10, 2026
وزیر داخلہ محسن نقوی نے اعلان کیا کہ سی ڈی اے پنجاب حکومت کے اشتراک سے نئے ڈیمز تعمیر کرے گی تاکہ اسلام آباد اور راولپنڈی کی طویل المدتی پانی کی ضروریات پوری کی جا سکیں۔
اجلاس میں چراہ، دوتیرہ اور شاہدرا سمیت مختلف چھوٹے ڈیمز اور آبی ذخائر سے متعلق پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد کے 16 فیصد فلٹریشن پلانٹس کا پانی آلودہ، سی ڈی اے کا اعتراف
واپڈا اور سی ڈی اے حکام نے شہری اور دیہی علاقوں میں پانی کی فراہمی بڑھانے کے لیے فزیبلٹی رپورٹس، ٹائم لائنز اور مختلف آپشنز پیش کیے۔
اجلاس میں دوتیرہ ڈیم کی منظوری دی گئی جو یومیہ 110 ملین گیلن پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اسے 2 سال میں مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
وزیر داخلہ نے موجودہ پانی کی ترسیل کے نظام میں خامیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ سسٹم کی فوری جانچ کی جائے اور بلا تعطل پانی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ اسلام آباد کے شہریوں کو پانی کی فراہمی ان کی اولین ترجیح ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ملک کے بیشر علاقوں میں پانی کا بحران شدت اختیار کر گیا، راولپنڈی میں ایمرجنسی نافذ
محسن نقوی نے قلیل المدتی منصوبے کے تحت فوری اور عملی اقدامات کرنے، دستیاب تمام وسائل بروئے کار لانے اور پانی چوری و غیر قانونی کنکشنز کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کا بھی حکم دیا۔
اس کے علاوہ تمام آبی منصوبوں پر عملی پیشرفت کے لیے 10 دن کا جامع روڈ میپ پیش کرنے کی ہدایت بھی جاری کی گئی۔














