علاقائی تنازعات اور معرکہ حق میں شکست کے بعد بھارت نے سفارتی کمزوریوں کے تدارک کے لیے لابنگ فرموں پر انحصار شروع کر دیا ہے۔
مزید پڑھیں: امریکا نے بھارت کی قیادت میں قائم انٹرنیشنل سولر الائنس سے علیحدگی اختیار کرلی، مودی سرکار کو بڑا دھچکا
امریکی تحقیقاتی ادارے اوپن سیکرٹس اور بھارتی جریدے دی انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق بھارت نے امریکا میں لاکھوں ڈالرز کی لابنگ کے ذریعے اپنی مسخ شدہ ساکھ بحال کرنے کی کوشش کی ہے۔
اوپن سیکرٹس کے مطابق بھارتی حکومت نے 2025 میں متعدد لابیسٹ ہائر کیے تاکہ بین الاقوامی سطح پر اپنی پوزیشن مضبوط کر سکے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی حکومت نے امریکی لابنگ فرم بی جی آر گروپ کو 4 لاکھ 50 ہزار ڈالرز فراہم کیے تاکہ سفارتی تعلقات اور ساکھ کی بحالی کی جا سکے۔
دی انڈین ایکسپریس کے مطابق ذلت آمیز شکست کے بعد بھارت نے آپریشن سندور کے بعد امریکا میں لابنگ کے ذریعے صدر ٹرمپ کی انتظامیہ سے رابطے شروع کیے اور گمراہ کن پروپیگنڈا کی ترویج کے لیے بھی کوششیں کیں۔
مزید پڑھیں: مودی کی کس غلطی کی وجہ سے بھارت امریکا معاہدہ کھٹائی میں پڑا، امریکی وزیر تجارت نے بتادیا
مزید بتایا گیا کہ بھارتی وفد نے امریکی انتظامیہ سے ملاقاتوں میں ایس ایچ ڈبلیو لابنگ فرم کی خدمات حاصل کیں، جس کے لیے بھارت نے 1.8 ملین ڈالر سالانہ ادا کیے، جبکہ مرکری پبلک افیئرز کو سہ ماہی بنیاد پر 75 ہزار ڈالرز دیے گئے۔














