کئی بھارتی ریاستوں میں مطلوب ملزم رحمان ڈکیت کو گجرات کے علاقے سورت سے گرفتار کرلیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ڈٹیکشن آف کرائم برانچ نے بھوپال میں سرگرم خطرناک جرائم پیشہ گینگ کے سرغنہ عابد علی ایرانی المعروف راجو ایرانی یا رحمان ڈکیت کو شہر سے گرفتار کر لیا۔ ملزم مدھیہ پردیش میں بڑے پولیس آپریشن کے بعد فرار ہو گیا تھا اور مختلف ریاستوں میں روپوشی کے بعد سورت پہنچا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: داؤد ابراہیم کو زہر دے دیا گیا، بھارتی میڈیا کا دعوٰی
عابد علی ایرانی مدھیہ پردیش، ہریانہ، دہلی، مہاراشٹر اور اتر پردیش میں متعدد سنگین مقدمات میں مطلوب تھا۔ اس پر الزام ہے کہ اس نے بھوپال میں ایک خاندان کے ایک فرد پر پولیس مخبر ہونے کے شبہے میں پورے خاندان کو زندہ جلانے کی کوشش بھی کی۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال 28 دسمبر کو تقریباً 150 اہلکاروں نے بھوپال کے علاقے ایرانی ڈیرہ میں بڑا کریک ڈاؤن کیا تھا، جہاں سے ملزم مبینہ طور پر اپنے جرائم کی منصوبہ بندی کرتا تھا۔ اس کارروائی کے دوران 34 مردوں اور 10 خواتین کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ کی گئی، تاہم ملزم موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا تھا۔

تحقیقات کے مطابق عابد علی ایرانی شاہانہ طرزِ زندگی گزار رہا تھا اور اس کے پاس لگژری گاڑیاں، مہنگی موٹر سائیکلیں اور گھوڑے بھی موجود تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ مختلف ریاستوں میں گرفتار ہونے والے گینگ کے ارکان کو قانونی مدد فراہم کرتا تھا اور چوری و ڈکیتی کی وارداتوں سے ایک مقررہ حصہ وصول کرتا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: لیاری کا گینگسٹر رحمان ڈکیت جس نے اپنی ماں کو بھی نہیں بخشا
پولیس کے مطابق بھوپال سے فرار ہونے کے بعد ملزم پہلے مہاراشٹر گیا اور بعد ازاں سورت پہنچا، جہاں اسے گرفتار کر لیا گیا۔ تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ گینگ کے ارکان اکثر خود کو سی بی آئی یا پولیس افسر ظاہر کر کے شہریوں کو دھوکہ دیتے تھے۔ کئی واقعات میں وہ لوگوں کو آنے والی پولیس چیکنگ کا کہہ کر خوفزدہ کرتے اور قیمتی سامان لے کر فرار ہو جاتے تھے۔
پولیس نے بتایا کہ گینگ کے افراد بعض اوقات متاثرہ شخص پر کیچڑ یا دیگر اشیا پھینک کر توجہ ہٹاتے اور اسی دوران زیورات یا نقدی چرا لیتے تھے۔ کچھ وارداتوں میں وہ مذہبی فقیر کا بھیس بدل کر گھروں میں داخل ہوتے رہے۔ ہائی ویز پر بھی جعلی ناکے لگا کر خود کو پولیس اہلکار ظاہر کرتے ہوئے ڈکیتیاں کی جاتی تھیں۔
پولیس کے مطابق چھاپوں کے دوران علاقے کی خواتین مبینہ طور پر پولیس پر پتھراؤ کرتیں تاکہ گینگ کے افراد کو فرار کا موقع مل سکے۔ نئے بھرتی ہونے والوں کو پولیس اہلکاروں جیسا لہجہ اور انداز اپنانے کی باقاعدہ تربیت بھی دی جاتی تھی تاکہ جعلسازی مزید مؤثر ہو سکے۔
یہ بھی پڑھیں: بھوپت ڈاکو، جو اسلام قبول کرنے کے بعد امین یوسف بن گیا
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم سے تفتیش جاری ہے اور اس گینگ سے وابستہ مزید افراد کی گرفتاری کا امکان ہے۔














