وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے کہا ہے کہ مس انفارمیشن موجودہ دور کا سب سے بڑا اور سنگین چیلنج ہے، جس سے نمٹنے کے لیے حکومت اکیلے کچھ نہیں کر سکتی بلکہ میڈیا، تعلیمی اداروں اور سول سوسائٹی کو بھی اپنا مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا۔
آئی بی اے کراچی کے زیر اہتمام ایک ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہاکہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے فروغ کے بعد غلط معلومات سے نمٹنا مزید مشکل ہو گیا ہے۔
مزید پڑھیں: بھارتی میڈیا کی انڈیا سمیت دنیا بھر میں ساکھ صفر ہوگئی، فیک نیوز واچ ڈاگ کی رپورٹ جاری
انہوں نے کہاکہ بطور وزیر اطلاعات اس چیلنج کے تدارک کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں، جن میں پاکستان کے پہلے ڈیجیٹل کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ کا قیام بھی شامل ہے جو وزارت اطلاعات کا ملحقہ ادارہ ہے۔
عطااللہ تارڑ نے بتایا کہ وزارت اطلاعات کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے معلومات کی باقاعدہ تصدیق کی جاتی ہے اور جعلی خبروں کو فیک انفارمیشن کا لیبل دیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ آئی ویریفائی نے قومی اور بین الاقوامی سطح پر اپنی جگہ بنائی ہے جو انتہائی حوصلہ افزا ہے، جبکہ آئی بی اے نے آئی ویریفائی پاکستان کے قیام کے حوالے سے شاندار کام کیا ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ آئی ویریفائی نے مشکل اوقات میں غلط معلومات سے نمٹنے میں مؤثر کردار ادا کیا ہے اور اس کے حوالہ جات نہ صرف قومی سطح پر بلکہ بین الاقوامی جرائد اور عالمی میڈیا پلیٹ فارمز بھی بطور مستند ذریعہ استعمال کررہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ آگے بڑھنے کا راستہ تعاون اور ہم آہنگی میں مضمر ہے۔
انہوں نے کہاکہ اس ضمن میں میڈیا انڈسٹری پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور میڈیا ہاؤسز کو آگے آ کر اپنا فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے بتایا کہ مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے اے آئی سے تیار کردہ مواد کو واضح طور پر اے آئی کے طور پر لیبل کرنا شروع کر دیا ہے، تاہم تمام اے آئی تیار کردہ مواد کے لیے مناسب لیبلنگ کی ضرورت ہے۔
عطااللہ تارڑ نے کہاکہ آئی ویریفائی جیسا نظام پاکستان میں ذمہ دارانہ صحافت کے فروغ اور جعلی خبروں کی فوری و مؤثر نشاندہی کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے اس جدوجہد میں پوری کمیونٹی، حکومت، میڈیا ہاؤسز، تعلیمی اداروں اور سول سوسائٹی کے مشترکہ کردار پر زور دیا۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہاکہ حکومت پاکستان اس میدان میں اپنا کردار اسی طرح جاری رکھے گی جیسا کہ مئی میں بھارت کے ساتھ کشیدگی کے دوران کیا گیا۔
انہوں نے کہاکہ الحمدللہ پاکستان نے اس جنگ میں مؤثر انداز میں کامیابی حاصل کی اور بیانیے کے چیلنج کا نہایت مؤثر طریقے سے مقابلہ کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے مس انفارمیشن کے تدارک کے لیے مکمل مینڈیٹ دے رکھا ہے۔
مزید پڑھیں: جعفر ایکسپریس پر حملہ، فیک نیوز کا بازار گرم رہا
انہوں نے پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن اور آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی سے بھی درخواست کی کہ وہ آگے آئیں اور اپنا فعال کردار ادا کریں، جبکہ یو این ڈی پی کے ساتھ اس حوالے سے پہلے ہی ایک پروگرام پر کام جاری ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے ورلڈ اکنامک فورم کی 2024ء کی گلوبل رسک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ رپورٹ کے مطابق دنیا کو درپیش سب سے بڑا قلیل المدتی خطرہ غلط معلومات ہیں، جنہیں سب سے بڑا خطرہ اس لیے قرار دیا گیا ہے کیونکہ یہ انتشار اور افراتفری پیدا کر سکتی ہیں۔














