دفتر خارجہ میں خارجہ اُمور پر جب کبھی وہ بریفنگ دیتے ہیں تو اُس کے بعد صحافی کچھ آف دا ریکارڈ معلومات کے لیے اُن کے ساتھ چلتے ہیں لیکن تیز تیز قدم اُٹھاتے اکثر اُن کے ساتھ چلنا ذرا مُشکل ہو جاتا ہے، اُن کی یادداشت بھی قابلِ رشک ہے، اُنہیں ہر واقعے کی تفصیل اُس کی تاریخوں کے ساتھ یاد ہوتی ہے اور وہ پوری ترتیب کے ساتھ واقعات بیان کرتے ہیں کہ کب کس کے ساتھ ملے اور اُس کے اگلے مرحلے میں کیا کیا پیشرفت ہوئی۔
یہ بھی پڑھیے: سفارت کاری صرف معاہدوں تک محدود نہ رہے: پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کا نیا باب
اِس وقت دنیا بھر میں پاکستان کی کامیاب سفارتکاری کے چرچے ہیں جس کے نمایاں کردار پاکستان کے 75 سالہ نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار ہیں۔ پاکستان کی کامیاب سفارتکاری اور دنیا کے اہم وزرائے خارجہ اور دیگر قائدین کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہنے والے اسحاق ڈار کی وجہ سے، ہندوستان میں ناقدین بی جے پی حکومت کو آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں اور سوال اٹھائے جا رہے ہیں کہ بھارت کے مقابلے میں کہیں چھوٹا ملک پاکستان کس طرح سے دنیا کی بڑی طاقتوں کے درمیان مصالحت کاری کروا رہا ہے جبکہ ہندوستان اس معاملے میں کہیں نظر نہیں آتا۔
یہی سوالات مئی 2025 کی پاک بھارت فوجی کشیدگی کے بعد بھی اُٹھائے گئے کہ دنیا پاکستان کے مؤقف کو بھارت کے مؤقف پر ترجیح کیوں دیتی ہے۔

انتہائی متوازن خارجہ پالیسی
دنیا بھر کے نمایاں سفارتی جرائد پاکستان کی کامیاب خارجہ پالیسی پر مضامین باندھ رہے ہیں کہ کس طرح پاکستان، مخالف مفادات کے حامل مُلکوں کے بیچ باریک توازن قائم رکھتے ہوئے سب کے ساتھ دوستی نبھا رہا ہے۔ ایک طرف وہ چین کا گہرا دوست ہے تو دوسری طرف امریکی صدر پاکستانیوں کی تعریف پر کمربستہ، خلیجی ممالک پاکستان پر اعتبار کرتے ہیں اور ایران بھی۔
پڑوسی ملک بھارت کے تجزیہ نگاروں کے لیے یہ صورتحال انتہائی پریشان کُن ہے جس کا ذکر اُن کے نشریاتی پروگراموں میں مِلتا ہے جہاں وہ پاکستان کی سفارتی کامیابیوں پر حیران و پریشان نظر آتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: خطے میں جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتکاری ناگزیر، ترجمان دفتر خارجہ کی بریفنگ
اس سب میں پاکستان کی 3 اہم شخصیات چیف آف ڈیفنس فورسز جنرل عاصم مُنیر، وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نمایاں طور پر اُبھر کے سامنے آئے ہیں، جنہوں نے گزشتہ سال مئی سے لے کر اب تک پاکستان کو دُنیا بھر میں ایک اہم مُلک کے طور پر منوایا ہے۔
نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ جن کا اسحاق ڈار جن کا کئی سال تک تعارف وزیرِ خزانہ کے طور پر رہا، لیکن اب اُن کی کامیاب سفارتکاری کے چرچے نظر آتے ہیں۔
اسحاق ڈار کی محنت پر چین کا بالواسطہ اعتراف
گزشتہ روز چین کے دارلحکومت بیجنگ میں سرکاری دورے پر گئے ہوئے پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار کو چینی وزیرِ خارجہ وانگ یی نے جس محبت اور خلوص کے ساتھ ایک رات مزید قیام کے لیے روکا وہ نہ صرف پاک چین دوستی بلکہ اسحاق ڈار کی انتھک سفارتی کوششوں کا بھی اعتراف تھا۔

چینی وزیر خارجہ نے اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس میں اپنے خاص ڈاکٹروں کی ایک ٹیم بھی بھیجی جس نے اسحاق ڈار کا طبی معائنہ کیا۔ واضح رہے کہ 29 مارچ کو اسلام آباد میں 4 فریقی مذاکرات کے دوران اسحاق ڈار گر گئے تھے اور اُن کے کندھے پر ہیئر لائن فریکچر آیا تھا۔
وزیرِ خارجہ سے نائب وزیراعظم
75 سالہ اسحاق ڈار نے گزشتہ سال مئی میں ہونے والی پاک بھارت جنگ کے دوران جو متحرک اور فعال کردار کیا تھا اُس کو کئی ناقدین کی جانب سے بھی سراہا گیا اور بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان کی سفارتکاری کی تعریف کی گئی۔
اسحاق ڈار 11 مارچ 2024 کو وزیراعظم شہباز شریف کی کابینہ میں بطور وزیرِ خارجہ شامل ہوئے اور بعد ازاں 28 اپریل 2024 کو اُنہیں نائب وزیراعظم کا عہدہ بھی دیا گیا۔
سفارتی جھلکیاں
19 اپریل 2025 کو جب اسحاق ڈار نے افغانستان کا دورہ کیا تو سفارتی لحاظ سے یہ ایک اہم بریک تھرو تھا جس میں افغان عبوری حکومت کے ساتھ مسائل پر بات چیت کے لیے اہم پیشرفت ہوئی۔

اُس کے بعد مئی میں پاک بھارت جنگ، جون میں ایران اسرائیل جنگ، ستمبر 2025 میں وزیراعظم اور چیف آف ڈیفنس فورسز کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ اور امریکا سیکرٹری خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات، اکتوبر میں پاک افغان فوجی کشیدگی، اس سال 21 فروری سے ایک بار پھر پاک افغان فوجی کشیدگی اور 28 فروری سے شروع ہونے والی ایران، اسرائیل امریکا جنگ میں اسحاق ڈار نے جو متحرک اور فعال کردار ادا کیا اور پاکستان کو اِس جنگ میں ثالثی کے حوالے سے جو بین الاقوامی تعریف ملی، اُس سے ملک کا نام تو روشن ہوا ساتھ میں اسحاق ڈار بھی دنیا کے نمایاں سفارتی کردار بن کے اُبھرے ہیں۔
اہم لوگوں کی جانب سے اسحاق ڈار کے کردار اور پاکستانی خارجہ پالیسی کی تعریف
پاکستان تحریک اِنصاف کی سابق وزیر شیریں مزاری نے 24 مارچ 2025 کو اپنے ایکس پیغام میں لکھا، ’اس حکومتی سیٹ اپ میں اسحاق ڈار وہ واحد شخصیت ہیں جن کی اپروچ کثیر الجہتی ہے نہ کہ ایسی کہ جس میں ٹرمپ کے منصوبے کو مکمل طور پر قبول کر لیا جائے۔ فلسطین اور غزہ کے معاملے میں وہ بہت زیادہ بات کرتے رہے ہیں اور یمن کے معاملے پر ہماری (پی ٹی آئی حکومت) کی قراردار بھی اِس لیے منظور ہوئی کہ ن لیگ کی جانب سے اسحاق ڈار نے اُس کو سپورٹ کیا‘۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستانی سفارتی اقدامات پر ایران کا اعتماد اور خیرمقدم
پاکستان کی سابق سفیر ملیحہ لودھی نے کہا کہ اگر پاکستان (ایران اسرائیل امریکا جنگ) رُکوانے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو پاکستان عالمی سفارتکاری میں سرِ فہرست آ جائے گا لیکن بہرحال پاکستان کو اچھی نیت سے کی گئی کوششوں کا کریڈٹ ملے گا۔

ایران کی جانب سے پاکستانی جھنڈوں والے جہازوں کو گزرنے کی اجازت دینے پر جب اسحاق ڈار نے ایک ٹویٹ کے ذریعے بتایا تو اُس پر سابق وزیرِ خارجہ اور ماہر بین الاقوامی اُمور مشاہد حسین سید نے لکھا کہ ’یہ ایران کی جانب سے پاکستان کے ساتھ دوستی کا بہت بڑا اظہار ہے۔پاکستان ایک انتہائی پیچیدہ صورتحال کو اپنی ماہرانہ سفارتکاری کے ذریعے اِس طرح سے ڈیل کر رہا ہے کہ وہ جنگ میں ملوّث نہ ہو جبکہ وہ اسرائیل کی جانب توسیع پسندانہ عزائم کے خلاف اپنے اُصولی مؤقف پر بھی قائم ہے‘۔
4 مارچ 2026 کو بی بی سی نے لکھا کہ ’پاکستان اس مسئلے (ایران، اسرائیل امریکا) جنگ میں ایک غیر متوقع ثالث کے طور پر اُبھر کر سامنے آیا ہے اور اُسے چین کی بھرپور تائید حاصل ہے کہ وہ اِس میں نمایاں کردار ادا کر سکے‘۔
امریکی جریدے بلومبرگ نے اسحاق ڈار کی قیادت میں پاکستان کو اس معاملے میں اہم ثالث قرار دیا ہے۔
اسحاق ڈار کی زندگی: معیشت سے سفارتکاری تک سیاسی سفر
13 مئی 1950 کو لاہور میں پیدا ہونے والے اسحاق ڈار نے ابتدائی تعلیم کے بعد ہیلی کالج آف کامرس میں داخلہ لیا، جہاں انہوں نے بی کام میں نمایاں پوزیشن حاصل کی اور 2 گولڈ میڈلز اپنے نام کیے۔ بعد ازاں وہ برطانیہ گئے جہاں انہوں نے انسٹیٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس سے پیشہ ورانہ ڈگری حاصل کی۔ یہ مرحلہ ان کی زندگی میں اہم موڑ ثابت ہوا کیونکہ یہاں انہوں نے عالمی مالیاتی نظام، ٹیکس اسٹرکچر اور کارپوریٹ گورننس کی باریکیوں کو قریب سے سمجھا۔
اسحاق ڈار نے اپنے کیرئر کا آغاز بطور ایک چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کے طور پر کیا۔ اور اپنے ابتدائی کئی سالوں تک سیاست میں اُن کا حوالہ سفارتکاری نہیں بلکہ معیشت تھی۔
پیشہ ورانہ کیریئر
سیاست میں آنے سے پہلے اسحاق ڈار نے برطانیہ میں ایک بڑی ٹیکسٹائل کمپنی میں فنانس ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دیں، جہاں ان کی ذمہ داریوں میں مالیاتی منصوبہ بندی، بجٹ سازی اور سرمایہ کاری کے فیصلے شامل تھے۔

اس کے علاوہ انہوں نے لیبیا میں بھی آڈیٹر کے طور پر کام کیا، جہاں انہیں مختلف مالیاتی نظاموں اور بین الاقوامی بزنس کلچر کا تجربہ حاصل ہوا۔ پاکستان واپسی کے بعد انہوں نے کارپوریٹ سیکٹر میں مشاورتی کردار ادا کیا، یہ تجربہ بعد میں ان کے سیاسی فیصلوں میں جھلکتا نظر آیا۔
سیاست میں آمد اور ابتدائی عہدے
1980 کی دہائی میں اسحاق ڈار نے عملی سیاست میں قدم رکھا اور جلد ہی پاکستان مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنماؤں میں شامل ہو گئے۔ نواز شریف کے ساتھ ان کی قریبی وابستگی نے ان کے سیاسی کیریئر کو تیزی سے آگے بڑھایا۔
1990 کی دہائی میں انہیں وزیر تجارت، وزیر صنعت اور بعد ازاں وزیر خزانہ جیسے اہم قلمدان سونپے گئے۔ ان عہدوں پر رہتے ہوئے انہوں نے درآمدات و برآمدات، صنعتی ترقی اور مالیاتی پالیسی سازی میں حصہ لیا۔
یہ بھی پڑھیے: سفارتی ذمہ داریوں کے انجام دہی کے دوران اسحاق ڈار گرپڑے، کندھے میں ہیئرلائن فریکچر کی تشخیص
اسحاق ڈار 4 مرتبہ پاکستان کے وزیر خزانہ رہ چکے ہیں، خاص طور پر 2013 سے 2017 کے دور میں انہوں نے معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے متعدد اقدامات کیے، جن میں روپے کی قدر کو کنٹرول کرنا، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ اور مالیاتی خسارے کو کم کرنے کی کوششیں شامل تھیں۔

ان کے حامیوں کے مطابق اس دور میں معاشی اشاریے بہتر ہوئے، جبکہ ناقدین کا مؤقف ہے کہ یہ استحکام زیادہ تر عارضی تھا اور اسٹرکچرل تبدیلیاں نہیں کی گئیں، جس کے باعث معیشت کو طویل مدتی مسائل کا سامنا رہا۔
سینیٹ اور پارلیمانی کردار
اسحاق ڈار نہ صرف وفاقی کابینہ کا حصہ رہے بلکہ پارلیمانی سطح پر بھی سرگرم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ وہ کئی بار سینیٹر منتخب ہوئے اور 2012 سے 2013 تک سینیٹ میں قائد حزب اختلاف کے طور پر خدمات انجام دیں۔ اس دوران انہوں نے بجٹ پر بحث، آئینی ترامیم اور قومی پالیسیوں پر تفصیلی گفتگو میں حصہ لیا۔ ان کا انداز عموماً تکنیکی اور اعداد و شمار پر مبنی ہوتا تھا، جو انہیں دیگر سیاستدانوں سے منفرد بناتا ہے۔
قانونی چیلنجز اور جلاوطنی
2017 میں نیب کی تحقیقات کے بعد اسحاق ڈار کو آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس کا سامنا کرنا پڑا۔ عدالت کی جانب سے انہیں اشتہاری قرار دیا گیا، جس کے بعد وہ طویل عرصے تک برطانیہ میں مقیم رہے۔ یہ مرحلہ ان کے سیاسی کیریئر کا سب سے متنازع دور تھا، جہاں ایک طرف ان کے مخالفین نے انہیں کرپشن کا ذمہ دار قرار دیا، وہیں ان کے حامیوں نے ان مقدمات کو سیاسی انتقام قرار دیا۔

2022 میں اسحاق ڈار پاکستان واپس آئے اور ایک بار پھر وزیر خزانہ کا عہدہ سنبھالا۔ اس وقت پاکستان کو شدید معاشی بحران، مہنگائی اور زرمبادلہ کی کمی جیسے چیلنجز کا سامنا تھا، جس سے نمٹنے کے لیے انہوں نے متعدد پالیسی اقدامات کیے۔













