امریکی ویزا منسوخی میں 150 فیصد اضافہ، ٹرمپ انتظامیہ کا ریکارڈ دعویٰ

منگل 13 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی محکمۂ خارجہ کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے گزشتہ سال دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد اب تک ایک لاکھ سے زائد ویزے منسوخ کیے جا چکے ہیں، کیونکہ ان کی انتظامیہ امیگریشن کے خلاف سخت گیر کریک ڈاؤن جاری رکھے ہوئے ہے۔

محکمۂ خارجہ نے پیر کو سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں بتایا کہ منسوخ کیے گئے ویزوں میں 8 ہزار طلبا اور 2 ہزار 500 خصوصی مہارت رکھنے والے ورکرز شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا میں غیر ملکی طلبا کے ویزے اچانک منسوخ، طلبا خوف و ہراس کا شکار

محکمے کے مطابق ویزے منسوخ کیے جانے کی اکثریتی وجہ ’مجرمانہ سرگرمیوں کے سلسلے میں امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں سے واسطہ پڑنا‘ تھی۔

تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ان واقعات کے نتیجے میں باضابطہ مقدمات بھی قائم ہوئے یا نہیں۔

ویزا منسوخی کی یہ بڑی تعداد اس وسیع کریک ڈاؤن کی عکاسی کرتی ہے جس کا آغاز صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس واپسی کے فوراً بعد کیا تھا۔

انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ اس نے اب تک 25 لاکھ سے زائد رضاکارانہ روانگیوں اور ملک بدریوں کی نگرانی کی ہے، جسے گزشتہ ماہ ’ریکارڈ توڑ کامیابی‘ قرار دیا گیا۔

تاہم، ان ملک بدریوں میں بعض ایسے تارکینِ وطن بھی شامل تھے جن کے پاس درست ویزے موجود تھے۔

مزید پڑھیں: امریکا میں غیرقانونی غیرملکیوں کیخلاف کریک ڈاؤن جاری، شکاگو میں مظاہرین اور وفاقی اداروں میں جھڑپیں

جس کے باعث قانونی طریقۂ کار اور انسانی حقوق سے متعلق سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

انتظامیہ نے ویزا دینے کے عمل کو بھی مزید سخت بنا دیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کی کڑی جانچ پڑتال اور اسکریننگ کے دائرۂ کار کو وسیع کرنا شامل ہے۔

محکمۂ خارجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کو محفوظ رکھنے کے لیے ان غنڈوں کو ملک بدر کرتے رہیں گے۔

مزید پڑھیں: امریکا کی جانب سے پاکستانیوں کے ویزوں کی منسوخی برین ڈرین میں کمی کا سبب بن سکتی ہے؟

محکمۂ خارجہ کے نائب ترجمان ٹومی پیگوٹ کے مطابق ویزے منسوخ کیے جانے کی 4 بڑی وجوہات میں ویزا کی مدت سے زائد قیام، نشے کی حالت میں گاڑی چلانا، حملہ اور چوری شامل ہیں۔

ان کے مطابق ویزا منسوخی کے واقعات میں 2024 کے مقابلے میں 150 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

محکمۂ خارجہ نے ایک ’کنٹینیوئس ویٹنگ سینٹر‘ بھی قائم کیا ہے، جس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ امریکی سرزمین پر موجود تمام غیر ملکی امریکی قوانین کی پابندی کریں اور جو افراد امریکی شہریوں کے لیے خطرہ ہوں ان کے ویزے فوری طور پر منسوخ کیے جائیں۔

یہ مرکز اُن مجموعی اقدامات کا حصہ ہے جن کے ذریعے ملک میں داخلے کے عمل کو مزید محدود کیا جا رہا ہے۔

محکمۂ خارجہ نے امریکی سفارت کاروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ ایسے ویزا درخواست گزاروں پر خصوصی نظر رکھیں جنہیں واشنگٹن امریکا کے لیے مخالف سمجھتا ہو یا جن کا سیاسی سرگرمیوں سے تعلق رہا ہو۔

نومبر میں محکمۂ خارجہ نے بتایا تھا کہ صدر ٹرمپ کی حلف برداری کے بعد سے اب تک تقریباً 80 ہزار غیر امیگرنٹ ویزے منسوخ کیے جا چکے ہیں، جن کی وجوہات میں نشے کی حالت میں ڈرائیونگ سے لے کر حملہ اور چوری تک شامل ہیں۔

مزید پڑھیں: امریکی ویزے کے خواہشمندوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کی چھان بین کا فیصلہ

صدر ٹرمپ نے 2024 کے انتخابی مہم کے دوران وعدہ کیا تھا کہ وہ ’امریکا کی تاریخ کے سب سے بڑے مجرموں کی ملک بدری کے پروگرام‘ کی نگرانی کریں گے۔ انہیں 20 جنوری 2025 کو دوسری مدت کے لیے صدر کے عہدے کا حلف دلایا گیا۔

تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کا یہ وسیع پیمانے پر کریک ڈاؤن مجرموں اور غیر مجرموں دونوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ اس کے علاوہ، انتظامیہ پر یہ الزام بھی عائد کیا جا رہا ہے کہ وہ ایسے ویزا ہولڈرز کو نشانہ بنا رہی ہے جن کے خیالات سے حکومت متفق نہیں۔

مثال کے طور پر مارچ میں ٹرمپ انتظامیہ نے فلسطین کے حق میں مظاہروں میں شریک طلبہ کے ویزے منسوخ کرنے کی مہم شروع کی۔ ٹفٹس یونیورسٹی کی طالبہ رومیسہ اوزترک بظاہر صرف اپنے کیمپس اخبار میں ایک اداریہ لکھنے پر نشانہ بنیں۔

مزید پڑھیں: امریکا: غیرقانونی تارکین وطن کو سہولت مل گئی، اہم ایپ لانچ

اکتوبر میں محکمۂ خارجہ نے یہ بھی اعلان کیا تھا کہ اس نے 6 غیر ملکی شہریوں کے ویزے اس بنیاد پر منسوخ کیے کہ انہوں نے قدامت پسند کارکن چارلی کرک کے قتل پر آن لائن خوشی کا اظہار کیا تھا۔

محکمے نے سوشل میڈیا پر بیان میں کہا کہ امریکا پر لازم نہیں کہ وہ ایسے غیر ملکیوں کی میزبانی کرے جو امریکیوں کی موت کی خواہش رکھتے ہوں۔

تاہم ان اقدامات نے آزادیٔ اظہار سے متعلق امریکی آئین کی پہلی ترمیم کی خلاف ورزی کے خدشات کو جنم دیا ہے۔

مزید پڑھیں: امریکا کی بھارتی شہریوں کو سخت سزا کی وارننگ، پاکستانی تنبیہ سے محفوظ

ٹرمپ انتظامیہ کے امیگریشن کریک ڈاؤن میں طاقت کے استعمال پر بھی امریکا میں شدید غصہ پایا جاتا ہے۔

حال ہی میں منی ایپلس، منیسوٹا میں امیگریشن کارروائیوں کے دوران 3 بچوں کی ماں 37 سالہ رینی نکول گڈ کو ان کی گاڑی میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا، جس کے بعد ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

فلسطینی نژاد مصنفہ کے ادبی میلہ سے اخراج پر احتجاج، 180 مصنفین کا شرکت سے انکار، فیسٹیول بورڈ ارکان مستعفی

بلوچستان فائنانس ایکٹ 2020 آئینی قرار، اٹک سیمنٹ کی درخواست مسترد

نوجوان اداکار سمجھتے ہیں ہمیں سب کچھ آتا ہے، صبا فیصل کی تنقید

بنگلہ دیش میں شخصی حکمرانی روکنے کے لیے ایوان بالا قائم کرنے کی تجویز پیش

مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں آگے بڑھنے کے لیے میٹا کی نئی حکمتِ عملی

ویڈیو

سخت سردی میں سوپ پینے والوں کی تعداد میں اضافہ

سانحہ 9 مئی: سہیل آفریدی کی موجودگی ثابت، ایف آئی آر میں نامزد نہ کیا گیا تو عدالت سے رجوع کریں گے، وکیل ریڈیو پاکستان

کیا ونڈر بوائے آ رہا ہے؟ پی ٹی آئی کی آخری رسومات ادا

کالم / تجزیہ

وزیر اعلیٰ ہو تو سہیل آفریدی جیسا

ہیرا ایک ہی ہے

’نہیں فرازؔ تو لوگوں کو یاد آتا ہے‘