میٹا پلیٹ فارمز نے پیر کے روز سابق ٹرمپ انتظامیہ کی عہدیدار دینا پاول میک کارمک کو کمپنی کی صدر اور نائب چیئرپرسن مقرر کرنے کا اعلان کیا ہے۔
اس پیشرفت سے امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں کمپنی کی لابنگ سرگرمیوں کو مزید تقویت ملنے کی توقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں: میٹا نے چینی اے آئی ’مانس‘ 2 ارب ڈالر میں خرید لیا
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کمپنی کی جانب سے ترقی کے اعلان کے چند منٹ بعد ہی اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پیغام میں دینا پاول میک کارمک کو مبارک باد دی۔
ٹرمپ نے انہیں ایک شاندار اور نہایت باصلاحیت شخصیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ان کی انتظامیہ میں قوت اور امتیاز کے ساتھ خدمات انجام دیں۔
Meta named Dina Powell McCormick as its president and vice chairman. She previously advised President Donald Trump and worked at Goldman Sachs. https://t.co/eg4OfLaKCx
— Business Insider (@BusinessInsider) January 12, 2026
دینا پاول میک کارمک کی تقرری ان تبدیلیوں کے سلسلے کی تازہ کڑی ہے جو میٹا نے گزشتہ ایک سال کے دوران کی ہیں، جن کا مقصد کمپنی کو صدر ٹرمپ کے مزید قریب لانا ہے۔
میٹا جدید مصنوعی ذہانت اور ذاتی سپر انٹیلیجنس میں سرمایہ کاری تیز کر رہا ہے۔
چیف ایگزیکٹو مارک زکربرگ ان منصوبوں کے لیے ڈیٹا سینٹرز اور توانائی کی استعداد بڑھانے کے حوالے سے ٹرمپ کی حمایت حاصل کرنے کے خواہاں ہیں۔
مزید پڑھیں: میٹا نے رے بین اسمارٹ چشمے لانچ کردیے، خصوصیات کیا ہیں؟
ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت کی حلف برداری سے قبل مارک زکربرگ نے فلوریڈا میں ٹرمپ کے مارا لاگو ریزورٹ میں ان سے ملاقات بھی کی تھی۔
اس کے علاوہ میٹا نے امریکا میں اپنا فیکٹ چیکنگ پروگرام ختم کر دیا، ریپبلکن رہنما جوئل کیپلن کو چیف گلوبل افیئرز آفیسر مقرر کیا، اور تنوع سے متعلق پروگرامز بھی بند کر دیے۔

یہ تمام اقدامات ایسے تھے جنہیں ٹرمپ کی حمایت حاصل رہی۔ جنوری کے آغاز میں میٹا نے سابق ٹرمپ تجارتی مشیر سی جے مہونی کو قانونی ٹیم کا سربراہ مقرر کیا، جبکہ سابق جنرل کونسل جینیفر نیوسٹیڈ کو عہدے سے ہٹا دیا گیا، جو خود بھی ٹرمپ انتظامیہ سے وابستہ رہ چکی تھیں۔
میٹا نے اس سوال پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا کہ آیا دینا پاول میک کارمک کی تقرری کا مقصد صدر ٹرمپ کو خوش کرنا ہے یا نہیں۔
مزید پڑھیں: بچوں سے ’رومانوی‘ چیٹ پر میٹا امریکا میں تحقیقات کی زد میں
کمپنی کے بیان کے مطابق دینا پاول میک کارمک میٹا کو ڈیٹا سینٹرز کے پھیلاؤ، نئے اسٹریٹجک سرمایہ جاتی شراکت داریوں کے قیام اور کمپنی کی طویل المدتی سرمایہ کاری کی صلاحیت میں اضافے میں مدد دیں گی۔
دینا پاول میک کارمک نے گولڈمین سیکس میں 16 برس تک اعلیٰ انتظامی عہدوں پر خدمات انجام دیں۔ وہ صدر ٹرمپ کی پہلی مدت میں ڈپٹی نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر رہیں، جبکہ سابق صدر جارج ڈبلیو بش کے دور میں وائٹ ہاؤس کی سینئر مشیر بھی رہ چکی ہیں۔
ان کے شوہر امریکی سینیٹر ڈیوڈ میک کارمک ہیں، جو ریاست پنسلوانیا سے ریپبلکن رکن ہیں اور توانائی پالیسی سے متعلق سینیٹ کی ذیلی کمیٹی کے چیئرمین ہیں، یہ وہ شعبہ ہے جس سے دینا پاول میک کارمک کا کردار میٹا میں بھی جڑا ہوگا۔
مزید پڑھیں: میٹا چیٹ بوٹ سے ملنے کی کوشش میں امریکی شہری کی ہلاکت
سینیٹر کے ترجمان کیٹی مونٹگمری نے ای میل کے ذریعے بتایا کہ سینیٹر میک کارمک ’امریکی سینیٹ کے تمام اخلاقی ضوابط کی پابندی جاری رکھیں گے۔‘
تاہم، ٹیک اوور سائٹ پروجیکٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ساچا ہوورتھ نے کہا کہ ’سینیٹر میک کارمک کو میٹا کے کاروبار سے متعلق ہر ووٹ اور کمیٹی کارروائی سے خود کو الگ کر لینا چاہیے۔‘
دینا پاول میک کارمک کا یہ کردار میٹا کی سابق چیف آپریٹنگ آفیسر شیرل سینڈبرگ کی کوششوں کی یاد دلاتا ہے، جنہوں نے اپنے دور میں واشنگٹن کے طاقتور حلقوں اور ڈیموکریٹک پارٹی سے قریبی تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے کمپنی کو قانون سازوں اور ریگولیٹرز کی جانچ پڑتال سے نمٹنے میں مدد دی تھی۔
مزید پڑھیں: متحدہ عرب امارات نےعربی زبان میں مصنوعی ذہانت کے لیے ایک نیا ماڈل لانچ کردیا
واضح رہے کہ دینا پاول میک کارمک نے دسمبر میں میٹا کے بورڈ آف ڈائریکٹرز سے استعفیٰ دیا تھا، جو بورڈ میں شمولیت کے محض 8 ماہ بعد سامنے آیا۔
میٹا اس وقت سلیکون ویلی میں مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں، خاص طور پر اس کے لاما 4 ماڈل کو خاطر خواہ پذیرائی نہ ملنے کے بعد، اپنی حیثیت برقرار رکھنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔
کمپنی نے 2025 کے لیے 72 ارب ڈالر تک کے سرمائے کے اخراجات کا اعلان کیا ہے۔












