بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی رائٹرز نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان انڈونیشیا کو جے ایف-17 اور ڈرونز فروخت کرنے پر غور کر رہا ہے۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں انڈونیشیا کے وزیرِ دفاع سجافری سجامسو الدین اور پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کے درمیان ملاقات ہوئی، جس میں انڈونیشیا کو پاکستانی ساختہ جنگی طیاروں اور ڈرونز کی فروخت پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: امریکا نے پاکستان کے ایف-16 طیاروں کی اپ گریڈیشن کی منظوری دیدی، 686 ملین ڈالر کا بڑا دفاعی پیکج
رائٹرز نے دعویٰ کیا ہے کہ باخبر سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بات چیت ایک ممکنہ دفاعی معاہدے کے گرد گھومتی رہی، جس میں جے ایف-17 تھنڈر لڑاکا طیارے اور لڑاکا ڈرونز شامل ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مذاکرات ایک اعلیٰ مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں اور اس میں 40 سے زائد جے ایف-17 طیاروں کی فروخت زیرِ غور ہے، جب کہ انڈونیشیا نے پاکستان کے شاہپر ڈرونز میں بھی گہری دلچسپی ظاہر کی ہے۔ تاہم ممکنہ معاہدے کی مدت اور ترسیل کے شیڈول پر تاحال کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
انڈونیشیا کی وزارتِ دفاع اور پاک فوج دونوں نے ملاقات کی تصدیق کی ہے۔ انڈونیشین وزارتِ دفاع کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ریکو ریکارڈو سیرائٹ نے کہا کہ ملاقات میں مجموعی دفاعی تعاون، اسٹریٹجک ڈائیلاگ، ادارہ جاتی روابط کے فروغ اور طویل المدتی باہمی مفاد پر مبنی تعاون کے مواقع پر بات ہوئی، تاہم ابھی کسی حتمی فیصلے تک نہیں پہنچا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: دبئی ایئرشو میں دوست ملک کے ساتھ جے ایف17 تھنڈر کی خریداری کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط
پاک فوج کے مطابق انڈونیشین وزیرِ دفاع نے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بھی ملاقات کی، جس میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی و عالمی سلامتی کی بدلتی صورتحال اور دوطرفہ دفاعی تعاون بڑھانے کے امکانات پر گفتگو ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان نہ صرف جے ایف-17 طیاروں بلکہ فضائی دفاعی نظام، انڈونیشین فضائیہ کے افسران اور انجینئرنگ اسٹاف کی تربیت پر بھی بات چیت کر رہا ہے۔ ایک ریٹائرڈ ایئر مارشل کے مطابق انڈونیشیا کے ساتھ معاہدہ زیر غور ہے اور طیاروں کی تعداد تقریباً 40 کے قریب ہو سکتی ہے۔
انڈونیشیا اپنی پرانی فضائیہ کو جدید بنانے کے لیے پہلے ہی بڑے دفاعی سودے کر چکا ہے، جن میں فرانس سے رافیل طیاروں کی خریداری، ترکی سے کان فائٹر جیٹس کا معاہدہ، اور چین و امریکا سے جنگی طیاروں کی خریداری پر غور شامل ہے۔
پاکستانی دفاعی صنعت کی بڑھتی عالمی مانگ
پاکستانی دفاعی صنعت میں دلچسپی میں حالیہ عرصے خصوصاً بھارت کے ساتھ محدود تنازع میں پاکستانی طیاروں کے استعمال کے بعد نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ جے ایف-17 پہلے ہی آذربائیجان کے ساتھ معاہدے اور لیبیا کی نیشنل آرمی کے ساتھ اربوں ڈالر کے دفاعی پیکج کا حصہ بن چکا ہے۔
مزید برآں پاکستان بنگلہ دیش کے ساتھ بھی دفاعی تعاون کے معاہدے پر غور کر رہا ہے، جس میں سپر مشاق تربیتی طیارے اور جے ایف-17 شامل ہو سکتے ہیں، جبکہ سعودی عرب کے ساتھ بھی 2 سے 4 ارب ڈالر کے ممکنہ دفاعی معاہدے پر بات چیت جاری ہے۔














