فیس بک نے صارفین کو زیادہ دیر تک پلیٹ فارم پر رکھنے کے لیے ٹک ٹاک جیسا نیا فیچر آزمائش کے لیے پیش کیا ہے، جس میں ایپ کھولتے ہی فل اسکرین ویڈیوز دکھائی جائیں گی۔
یہ بھی پڑھیں: یورپی یونین کا فیس بک اور انسٹاگرام کی لت کے خلاف بڑا ایکشن، بھاری جرمانے کی دھمکی
میٹا کے مطابق فیس بک ایپ کے سربراہ ٹام ایلیسن نے تصدیق کی ہے کہ کمپنی ایک نئی ‘دوبارہ تشکیل دی گئی تجرباتی سہولت’ کی آزمائش کرے گی، جس کے تحت صارفین کو روایتی فیڈ کے بجائے براہ راست عمودی ویڈیوز کی فیڈ نظر آئے گی۔
نئے تجربے میں صارفین کو الگورتھم کے ذریعے منتخب کی گئی ویڈیوز مسلسل دکھائی جائیں گی، جو ٹک ٹاک کے ‘فور یو’ فیڈ سے مشابہ ہوگی۔
رپورٹس کے مطابق یہ تبدیلی فیس بک کے روایتی انداز سے ایک بڑا انحراف ہو سکتی ہے، کیونکہ اب تک پلیٹ فارم پر دوستوں، خاندان اور پیجز کی پوسٹس مرکزی حیثیت رکھتی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: فیس بک نے مونیٹائزیشن مزید آسان بنا دی، پاکستانی کانٹینٹ کریئیٹرز کے لیے ڈالرز میں کمائی کے نئے مواقع
میٹا پہلے بھی حریف پلیٹ فارمز کے مقبول فیچرز کو اپناتا رہا ہے۔ 2016ء میں اس نے اسنیپ چیٹ کی ‘اسٹوریز’ کو انسٹاگرام میں شامل کیا، جبکہ بعد میں ٹک ٹاک کے مقابلے کے لیے ‘ریلز’ متعارف کرائی گئیں۔
کمپنی نئے فیچر کو پہلے منتخب عالمی مارکیٹوں میں آزمائے گی، جس کے نتائج حوصلہ افزا ہونے کی صورت میں اسے امریکا سمیت دیگر ممالک میں متعارف کرایا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق فیس بک کا یہ اقدام اس لیے بھی اہم ہے کہ پلیٹ فارم کے موجودہ صارفین کی بڑی تعداد عمر رسیدہ ہو رہی ہے، جبکہ نوجوان صارفین کی بڑی تعداد ٹک ٹاک پر منتقل ہو چکی ہے اور روزانہ طویل وقت ویڈیوز دیکھنے میں گزار رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: میٹا نے واٹس ایپ، فیس بک اور انسٹاگرام کے بامعاوضہ فیچرز متعارف کرا دیے
تاہم فیس بک کے لیے یہ حکمت عملی خطرات سے خالی نہیں، کیونکہ بہت سے صارفین اب بھی دوستوں اور خاندان سے رابطے کے لیے فیس بک استعمال کرتے ہیں۔ ویڈیوز پر زیادہ توجہ دینے سے ممکن ہے کہ کچھ پرانے صارفین پلیٹ فارم سے دور ہو جائیں۔














