سہیل وڑائچ کا شمار پاکستان کے معتبر ترین صحافیوں میں ہوتا ہے۔ ان کےکالم ’ونڈربوائے‘ نے ملک کے سیاسی اور صحافتی حلقوں میں ہلچل مچا دی۔ ایک سے بڑھ کر ایک جید صحافی ’ونڈر بوائے‘ کی تلاش کی نفی کرنے نکل پڑا۔
’انتہائی مستند ذرائع‘ سے خبریں آگئیں کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں حکومت اور طاقتورحلقے ایک پیج پر ہیں۔ بڑے عہدوں پر فائز ان کے قریبی لوگ سہیل وڑائچ سے ناراض ہو گئے۔ مگر سہیل وڑائچ نہ مانے۔ انہوں نے ایک اور کالم چھاپ دیا کہ بلی چوہے کا کھیل جاری ہے اور چوہا اپنی جان بچانے کے لیے ہاتھ پاوّں مار رہا ہے۔
مسئلہ ہے کیا؟ ونڈر بوائے کیوں درکار ہے؟ سب ٹھیک تو چل رہا ہے۔ موجودہ رجیم کے سب سے بڑے مخالف جیل میں قید ہیں۔ ناقدین ڈھونڈنے سے نہیں ملتے۔ بھارت سے تاریخی جنگ جیت کر اپنا لوہا منوا چکے ہیں۔
کئی ملکوں کے ساتھ دفاعی معاہدے کیے جا رہے ہیں۔ دنیا نے تعریفوں کے پل باندھ دئے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کی تعریف میں تمام حدیں پار کردیں۔ ٹرمپ نے جتنی مرتبہ پاکستان کا نام لیا شاید تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا۔ معاشی اشاریے بھی مثبت دکھائی دے رہے ہیں۔ مہنگائی کی شرح کم ہوگئی۔ ڈالر پر پورا کنٹرول ہے۔ ترسیلات زر تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔
اپوزیشن ناکارہ بنا دی گئی ہے۔ حکومت سر جھکائے اپنے کام میں مگن ہے۔ میڈیا بھی سب اچھا ہے کا ورد کرتا دکھائی دیتا ہے۔ حکومت بھی فخر سے بتا رہی ہے کہ روزگار کی تلاش میں بیرون ملک جانے والے نوجوانوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ معدنیات اور دیگر شعبوں میں ہزاروں کی تعداد میں سرمایہ کاری کے معاہدے طے پا رہے ہیں۔
ہاں سرمایہ کاری نہیں آ رہی۔ خوش حالی نہیں آرہی۔ لوگوں اور خاص طور پر نوجوانوں کے پاس روزگار کے مواقع بہت کم ہیں۔ پچھلے چند برسوں میں ہونے والی مہنگائی کے باعث محدود آمدن سے عوام کے خرچے پورے نہیں ہو پا رہے۔ بہت سے خاندانوں نے بچوں کو مہنگے سکولوں سے اٹھا کر نستبا سستے تعلیمی اداروں میں ڈال دیا ہے۔ بجلی، گیس کے بل بڑھتے جا رہے ہیں۔ تنخواہ دار طبقے پر ٹیکسوں کی بھرمار کرکے سالانہ ریونیو بڑھانے کے دعوے کیے جا رہے ہیں۔ طاقتور ٹیکس نیٹ نہیں آ رہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق غذائی عدم تحفظ جو 2018 اور 2019 میں 15 اشاریہ 9 فیصد سے بڑھ کر2024 اور 2025 میں 24 اشاریہ 4 کی خوفناک سطح تک پہنچ چکا ہے۔
سرمایے کی اڑان رک نہیں پا رہی۔ نوجوان بیرون ملک سے بھاگ رہے ہیں۔ مغربی سرحدوں پر دہشت گردوں کی چھیڑچھاڑ مسلسل جاری ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ امن و امان اور سیاسی استحکام سرمایہ کاری میں رکاوٹ ہے یا پھر ہم برآمدی اشیا میں کوالٹی اور جدت میں مقابلہ کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں، جس کی وجہ سے ٹیکسٹائل کی برآمدات کم ہوتی جا رہی ہیں۔ ادھر افغانستان کے ساتھ کشیدگی سے بھی برآمدات متاثر ہو رہی ہیں۔
حال ہی میں ایک غیر رسمی نشست میں ایک سفارت کار سے ملاقات میں معاشی صورت حال پر گفتگو ہو رہی تھی۔ انہوں نے بجلی پیدا کرنے والے کارخانوں کے ساتھ معاہدوں پر نظرثانی کے معاملے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے حالات میں جب آپ کے ملک کو سرمایہ کاری کی شدید ضرورت ہے اور آپ بازو مروڑ کر بین الاقوامی معاہدوں پر نظرثانی کروا رہے ہیں۔ یہ عمل عالمی سطح پر سرمایہ کاروں کو خدشات اور خوف میں مبتلا کرنے کے مترادف ہے۔
سرمایہ کاری کو فروغ دینے اور سازگار ماحول پیدا کرنےکے لیے قائم کئے گئے ادارے ایس آئی ایف سی کی زیرنگرانی منصوبوں کی شفافیت پر آئی ایم ایف اور وزارت خزانہ نے سوالات اٹھا دئے ہیں۔
اب اس بنیادی نکتے پر بات ہو رہی ہے کہ کیا وجوہات ہیں کہ سرمایہ کار ملک میں سرمایہ کاری سے ہچکچا رہے ہیں۔ ایس آئی ایف سی کا کہنا ہے کہ بھاری ٹیکسز، کاروبار میں محکموں کی مداخلت اور کرپشن، دوسرے ممالک کی نسبت پیداواری لاگت زیادہ ہونا، وغیرہ محرکات ہیں جن کی وجہ سے کوششوں کے باوجود سرمایہ کاری نہیں ہو رہی۔ اگر دیکھا جائے تو یہ سب وجوہات تو ہر دور میں رہی ہیں مگر پھر بھی سرمایہ کاری ہوتی رہی۔
اگرچہ 2018 سے قبل ہی ہراساں کرنے اور کرپشن کرپشن کا چرچا بڑے زور شور سے جاری تھا مگرپراجیکٹ عمران خان کے دوران نیب اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے سرمایہ کاروں کو ڈرانے دھمکانے میں کوئی کثر نہیں چھوڑی۔
بے یقینی اور عدم استحکام کی وجہ سے بہت بڑی تعداد میں پیسے والے لوگ سرمایہ لے کر ملک سے باہر چلے گئے۔ بعض کو اپنا کاروبار بند یا سکیڑنے کی دھمکیاں دی گئیں۔ ڈیم فنڈ میں زبردستی مالی عطیات جمع کرانے پر مجبور کیا گیا۔ آئے روز میاں منشا سمیت پاکستان کے امیر ترین لوگوں کو نیب یا دیگر دفاتر میں پیش ہونے کے احکامات ملتے تھے۔ بعض کو دھمکیاں دی گئیں کہ فلاں کاروبار بند کردیں یا پھر نتائج بگھتنے کے لیے تیار رہیں۔
عمران خان کا دور ختم ہو گیا مگر وہ سرمایہ کار جنہوں نے کاروبار بیرون ملک منتقل کیا کوششوں کے باوجود وہ ہائبرڈ رجیم کے دور میں بھی واپس آنے کے لیے تیار نہیں ہوئے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کاروباری افراد یا سرمایہ کاروں کا خوف دور نہیں کیا جاسکا۔
بے یقینی اور سیاسی عدم استحکام جیسے حالات میں دوش کس پر آئے گا۔ ایسا تاثر مل رہا ہے کہ حکومت قصوروار ہے۔ سہیل وڑائچ کے مطابق یہ دستور ہے کہ طاقتور اور کمزور اگر کہیں ناکام ہوتے نظر آئیں تو قصوروار صرف کمزور ہو گا اور طاقتور کبھی اپنی خامیاں تسلیم نہیں کرے گا۔ قربانی بھی کمزور ہی دے گا اور پھر شاید کسی ‘ونڈر بوائے’ کا تجربہ کیا جائے گا جو سب ٹھیک کردے گا۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔














