سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ماحولیاتی تبدیلی کی چیئرمین سینیٹر شیری رحمان نے کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کی جانب سے اسلام آباد کے مختلف علاقوں میں درختوں کی کٹائی کا سخت نوٹس لے لیا ہے۔
شیری رحمان نے اس معاملے پر چیئرمین سی ڈی اے کو 22 جنوری کو ہونے والے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ماحولیاتی تبدیلی کے اجلاس میں طلب کر لیا ہے تاکہ درختوں کی کٹائی سے متعلق وضاحت لی جا سکے۔
’درختوں کی بے دریغ کٹائی انتہائی تشویشناک ہے‘
سینیٹر شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا کہ اسلام آباد میں درختوں کی بے دریغ کٹائی انتہائی تشویشناک ہے، ماحولیاتی تحفظ کو نظرانداز کرنا قومی مفاد کے خلاف ہے۔
یہ بھی پڑھیے ’یہ اسلام آباد کو اجاڑ کر رہیں گے‘، درختوں کی کٹائی پر محسن نقوی اور چیئرمین سی ڈی اے تنقید کی زد میں
انہوں نے کہا کہ 50 سال پرانے درختوں کی کٹائی ناقابل قبول ہے، پیپر مل بیری کے نام پر اسلام آباد کو براؤن کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
شجرکاری قومی ذمہ داری ہے، شیری رحمان
شیری رحمان نے زور دیا کہ اسلام آباد کی شجرکاری قومی ذمہ داری ہے، جسے احسن طریقے سے نبھانا ہم سب کا فرض ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جا سکتی۔
سی ڈی اے کو شہریوں کو آگاہی دینے کی ہدایت
سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ سی ڈی اے جو خود درختوں کی کٹائی میں مصروف عمل ہے، اسے شہریوں کو اس عمل کے بارے میں مکمل آگاہی دینا چاہیے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ مستقبل میں اس طرح کی کٹائی روکنے کے لیے سخت قوانین بنائے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیے اسلام آباد میں بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی، پولن الرجی سے نجات یا نیا ماحولیاتی بحران؟
’کیا اسلام آباد کو بھی سموگ کی نذر کرنا چاہتے ہیں؟‘
شیری رحمان نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ لاہور اور ملتان پہلے ہی سموگ کے شدید شکار ہیں، کیا اب اسلام آباد کو بھی اسی نہج تک لے جانا چاہتے ہیں؟
ماحولیاتی تحفظ آئندہ نسلوں کے لیے ضروری
انہوں نے خبردار کیا کہ درختوں کی کمی سے گرمی اور آلودگی میں اضافہ ہوگا، ماحولیاتی تحفظ آئندہ نسلوں کے لیے ناگزیر ہے۔ سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ سبز علاقوں کی حفاظت صحت مند ماحول کے لیے ناگزیر ہے، شہریوں کی صحت اور فلاح کے لیے ہر اقدام شفاف اور مؤثر ہونا چاہیے۔














