مشرقی بھارت کی ریاست جھاڑ کھنڈ میں ایک بپھرے ہوئے مست ہاتھی کے حملوں کے نتیجے میں جنوری کے پہلے 9 دنوں کے دوران کم از کم 20 افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ اس دوران 2 دن ایسے بھی گزرے جن میں اس ہاتھی نے 13 افراد کو ہلاک کیا۔
بی بی سی کے مطابق حکام نے ہاتھی کو قابو میں کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت میں جنگلی ہاتھی نے نوجوانوں کے ساتھ فٹبال کھیلی، ویڈیو وائرل
حکام کا کہنا ہے کہ یہ ہاتھی ایک تنہا نر ہے جو اپنے جھنڈ سے بچھڑ چکا ہے اور جنگلاتی علاقوں سے ملحقہ دیہات میں رات کے وقت حملے کر رہا ہے جس کے باعث مقامی آبادی شدید خوف و ہراس کا شکار ہے
جھاڑ کھنڈ اور ہمسایہ ریاستوں سے تعلق رکھنے والی خصوصی وائلڈ لائف ٹیموں کو مشترکہ سرچ آپریشن کے لیے تعینات کیا گیا ہے، تاہم اب تک ہاتھی کو پکڑنے یا بے ہوش کرنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہو سکیں۔ ہاتھی کی ریاستی سرحدیں عبور کرنے اور گھنے جنگلات میں غائب ہو جانے کی صلاحیت کے باعث اسے ٹریک کرنا انتہائی مشکل ثابت ہو رہا ہے۔
مزید پڑھیے: ہاتھی کے کان بڑے کیوں ہوتے ہیں؟ نئی تحقیق میں حیرت انگیز انکشافات
تازہ ہلاکتیں 12 جنوری کو رپورٹ ہوئیں جب 2 افراد ہاتھی کے حملے میں مارے گئے جس کے بعد وہ ہمسایہ ریاست اوڈیشہ کے علاقوں میں داخل ہو گیا۔
صورتحال کے پیش نظر جنگلاتی حکام نے ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے اور نگرانی، ہجوم کو کنٹرول کرنے اور ہنگامی ردعمل کے لیے ایک خصوصی ٹاسک فورس قائم کر دی گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہاتھی ممکنہ طور پر مست ہے۔ یہ ایک ایسی حالت ہے جو نر ہاتھیوں میں ہارمونز کی ایک قدرتی کیفیت ہوتی ہے اور اس دوران ان میں شدید جارحیت پیدا ہو سکتی ہے۔ حکام نے جنگلاتی رقبے میں کمی اور وائلڈ لائف کوریڈورز میں خلل کو بھی انسان اور جنگلی حیات کے درمیان بڑھتے تنازع کی بنیادی وجوہات قرار دیا ہے۔
مزید پڑھیں: بھارتی ریاست آسام میں ٹرین کی ٹکر سے 7 ہاتھی ہلاک
جھاڑ کھنڈ فاریسٹ ڈیپارٹمنٹ کے ترجمان کے مطابق یہ ہاتھی تیزی سے جنگلاتی علاقوں اور ریاستی سرحدوں کے آرپار حرکت کرتا ہے جس کی وجہ سے اس کی نگرانی نہایت مشکل ہو گئی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ ہماری اولین ترجیح مزید جانی نقصان کو روکنا اور ہاتھی کو محفوظ طریقے سے قابو میں لانا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: بھارت میں جنگلی ہاتھیوں کی آبادی میں 25 فیصد کمی، وجوہات کیا ہیں؟
حکام نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ رات کے وقت جنگلاتی علاقوں میں جانے سے گریز کریں، چوکس رہیں اور ہاتھی کی موجودگی کی فوری اطلاع متعلقہ اداروں کو دیں۔













