استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی گل اصغر خان نے کہا ہے کہ نئے صوبے بنائے بغیر ملکی مسائل حل نہیں ہو سکتے، بڑی سیاسی جماعتوں کو اس پر سوچنا ہوگا۔
’وی نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ہماری پارٹی کا بڑا واضح مؤقف ہے کہ اگر آپ صوبے نہیں بنائیں گے تو اتنی بڑی آبادی کو کیسے کنٹرول کریں گے۔
استحکام پاکستان پارٹی چھوٹے صوبوں کے لیے کیوں سرگرم ہے؟ رکن اسمبلی نے بتایا دیا pic.twitter.com/9DL3k3CwJd
— WE News (@WENewsPk) January 13, 2026
مزید پڑھیں: نئے صوبے ملک کے مفاد میں ہیں، مخالفت کرنے والوں کو منہ توڑ جواب دینا ہوگا، عبدالعلیم خان
انہوں نے کہاکہ پنجاب 12 کروڑ آبادی پر مشتمل صوبہ ہے جبکہ یورپ میں تو اتنا بڑا ملک نہیں ہے، ہمیں امریکا، چین اور انڈیا کے صوبوں کو دیکھ لینا چاہیے۔
انہوں نے کہاکہ بڑی سیاسی جماعتیں کنٹرول نہیں چھوڑنا چاہتیں جو اصل مسئلہ ہے، ورنہ نئے صوبوں کے نام اربن سندھ، رورل سندھ، سینٹرل پنجاب، نارتھ پنجاب وغیرہ بھی رکھے جا سکتے ہیں۔
گل اصغر خان نے کہاکہ لوگ دور دراز سے خوار ہو کر جب لاہور پہنچتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ آج چیف سیکریٹری صاحب نہیں ہیں، آج سیکریٹری نہیں بیٹھا اور پھر ان کو واپس جانا پڑتا ہے، ایسے نظام نہیں چل سکتا۔
آئی پی پی کے رکن اسمبلی نے کہاکہ بڑی پارٹیوں کا اگر ووٹ بینک ہے تو انہی کے ایک کے بجائے چار وزرائے اعلیٰ ہوں گے تو پھر اعتراض کس بات کا ہے۔
انہوں نے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی مثال دیتے ہوئے کہاکہ وہاں وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کو ہر شخص جانتا ہے، ہمیں ہر صورت نئے صوبوں کے بارے میں سوچنا ہوگا۔
مزید پڑھیں: ملک میں نئے صوبے بنانے کی بازگشت، بلاول بھٹو بول پڑے
واضح رہے کہ استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) کے صدر عبدالعلیم خان نے کچھ روز قبل کہا تھا کہ نئے صوبوں کی مخالفت کرنے والوں کو ہمیں جواب دینا ہوگا کیوں کہ اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں۔











