ڈنمارک کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس سے براہ راست میٹنگ کریں تاکہ ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر گرین لینڈ پر کنٹرول کی ان کی خواہش پر بات کی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی قبضہ کسی صورت برداشت نہیں کریں گے، گرین لینڈ کا دوٹوک مؤقف
غیر ملکی میڈیا کے مطابق ڈنمارک اور اس کے خودمختار جزیرے گرین لینڈ نے امریکا کے ساتھ براہ راست مذاکرات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے گرین لینڈ کو کنٹرول میں لینے کے مبینہ عزائم کے باعث پیدا شدہ کشیدگی پر بات کی جا سکے۔
ڈنمارک کے وزیر خارجہ لارس لوکے راسموسن نے کہا ہے کہ وہ اس تنازعے کو آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں تاکہ دونوں ممالک اپنے تحفظات کا براہ راست اظہار کر سکیں۔
وزیر خارجہ لارس لوکے راسموسن اور گرین لینڈ کی ہم منصب ویویان موٹزفیلڈٹ نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے ساتھ ملاقات کی درخواست کی ہے جس میں امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس بھی شریک ہوں گے۔ یہ ملاقات 14 جنوری کو واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ہے۔
مزید پڑھیے: گرین لینڈ کے مستقبل کے حوالے سے ڈنمارک فیصلہ کن مرحلے سے گزر رہا ہے، ڈینش وزیراعظم فریڈرکسن
یہ کشیدگی اس وقت بڑھ گئی تھی جب صدر ٹرمپ نے دوبارہ زور دیا کہ امریکا گرین لینڈ کو کسی نہ کسی طرح اپنے کنٹرول میں لے گا حتیٰ کہ بعض اوقات اس بیان میں فوجی آپشن کا بھی تذکرہ شامل رہا ہے۔
گرین لینڈ کے حکام اور ڈنمارک نے صاف طور پر کہا ہے کہ وہ کسی امریکی قبضے یا ملکیت کو کسی بھی صورت قبول نہیں کریں گے اور جزیرے کی خود ارادیت اور قومی خودمختاری کے حق میں ہیں۔
یورپی اتحادیوں نے بھی ڈنمارک اور گرین لینڈ کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ گرین لینڈ کی سیکیورٹی اور دفاع نیٹو کے ذریعے ہی ہونا چاہیے نہ کہ کسی ایک ملک کی ایک طرفہ کوششوں سے۔
مزید پڑھیں: ’ٹرمپ نے گرین لینڈ پر ممکنہ فوجی حملے کی منصوبہ بندی کا حکم دے دیا؟‘
یہ پیشرفت عالمی جغرافیائی سیاسی صورتحال میں اہمیت رکھتی ہے کیونکہ گرین لینڈ آرکٹک خطے میں مقام، معدنی وسائل اور سیکیورٹی کے نقطۂ نظر سے حساس حیثیت رکھتی ہے اور مختلف عالمی طاقتوں کی دلچسپی کا مرکز بنی ہوئی ہے۔














