پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے واضح کیا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) ایک دہشتگرد جماعت ہے اور اس مسئلے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہاکہ 9 مئی کے کسی کیس میں سہیل آفریدی نامزد نہیں ہیں اور فارنزک رپورٹ میں سامنے آنے والی ویڈیو کے حوالے سے واضح نہیں کہ یہ کس جگہ کی ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان میں دہشتگردی کے 70 فیصد سے زائد واقعات میں افغان ملوث، سہیل آفریدی تاحال لاعلم
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہاکہ دہشتگردی کے خلاف قومی ایکشن پلان پر بھرپور عمل ہونا چاہیے اور دہشتگردوں کے حوالے سے کسی کے دل میں نرم گوشہ نہیں ہونا چاہیے۔
پی ٹی آئی چیئرمین نے کہاکہ سہیل آفریدی کے کراچی دورے کے آخری دن سندھ حکومت کا رویہ بدل گیا اور حیدرآباد سے واپسی پر ان کا راستہ روکا گیا۔
بیرسٹر گوہر نے واضح کیاکہ دورے سے قبل سندھ حکومت کے رویے پر انہوں نے شکریہ بھی ادا کیا تھا، اور دورے کے دوران عوام نے سہیل آفریدی کا بھرپور استقبال کیا۔
انہوں نے مزید کہاکہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں زیادہ تر بات چیت اپوزیشن لیڈر کی تعیناتی پر ہوئی، جس کی نشست اگست سے خالی تھی۔
بیرسٹر گوہر کے مطابق ساری اپوزیشن کی جانب سے محمود خان اچکزئی ایک ہی امیدوار ہیں اور امید ہے کہ جمعرات تک نوٹیفکیشن جاری ہوگا، جو اعتماد سازی میں مددگار ثابت ہوگا۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہاکہ ہر وہ جماعت جسے حکومت اور ادارے دہشتگرد سمجھتے ہیں، پی ٹی آئی بھی انہیں دہشتگرد ہی تسلیم کرتی ہے اور پاکستان کے مفاد کے خلاف سرگرم تنظیمیں اس زمرے میں آتی ہیں۔
انہوں نے مذاکرات اور سیاسی مسائل کے سیاسی حل کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ حالات نارمل رہیں۔
مزید پڑھیں: شفیع جان کا ٹی ٹی پی کو دہشتگرد تنظیم قرار دینے سے گریز، سلمان اکرم راجا نے مؤقف رد کردیا
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پارٹی میں اختلافی آرا کو برداشت کرنا چاہیے اور انہوں نے کبھی بانی پی ٹی آئی عمران خان یا بشریٰ بی بی کے حوالے سے عوام میں کوئی بات نہیں کی۔
بیرسٹر گوہر نے مزید وضاحت کی کہ پارٹی کا قلم دوات ان کے پاس ہے، لیکن اصل اختیار بانی پی ٹی آئی عمران خان کے پاس ہے اور اگر بانی چاہیں تو وہ چیئرمین کا عہدہ چھوڑ کر گھر چلے جائیں گے۔














