امریکاس نے مصر، لبنان اور اردن میں سرگرم اخوان المسلمین کو دہشتگرد گروپ قرار دے دیا جس کا مقصد دنیا بھر میں اسرائیل کے حریفوں کے خلاف اپنے اقدامات کو مزید تیز کرنا بتایا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سابق فرانسیسی وزیراعظم کا بچیوں کے اسکارف پہننے پر پابندی لگانے کا مطالبہ
منگل کو یہ فیصلہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس حکم کے کچھ ہفتے بعد آیا جس میں ان کی انتظامیہ کو گروہوں کی بلیک لسٹنگ کا عمل شروع کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔
Today, we are designating the Lebanese, Egyptian, and Jordanian chapters of the Muslim Brotherhood as terrorist groups. Under President Trump’s leadership, the United States will eliminate the capabilities and operations of Muslim Brotherhood chapters that threaten U.S. citizens…
— Secretary Marco Rubio (@SecRubio) January 13, 2026
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بیان میں کہا کہ یہ اقدامات اخوان المسلمین کی تشدد اور عدم استحکام پھیلانے والی کارروائیوں کو روکنے کی مسلسل کوشش کا حصہ ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا ہر دستیاب ذریعہ استعمال کرے گا تاکہ اخوان المسلمین کی شاخوں کو دہشتگردی میں ملوث ہونے یا اس کی حمایت کے لیے وسائل فراہم نہ کیے جا سکیں۔
یہ اقدامات گروپ کو مالی اور مادی تعاون فراہم کرنا غیر قانونی بناتے ہیں موجودہ اور سابق اراکین کے لیے امریکا میں داخلہ پر پابندی عائد کرتے ہیں اور ان کی آمدنی کے ذرائع پر اقتصادی پابندیاں لگاتے ہیں۔
مزید پڑھیے: 5 دہائیوں تک شام پر حکومت کرنے والے الاسد خاندان کے عروج و زوال پر ایک نظر
اخوان المسلمین کی بنیاد سنہ 1928 میں مصری عالم حسن البنا نے رکھی تھی اور اس کے مشرق وسطیٰ میں سیاسی اور سماجی تنظیمیں موجود ہیں۔ گروپ کا مؤقف ہے کہ وہ پرامن سیاسی شرکت کے لیے کوشاں ہے۔
لبنان میں اخوان المسلمین کی شاخ، الجماعة الاسلامیہ، پارلیمان میں نمائندگی رکھتی ہے جبکہ اردن نے گزشتہ سال اس تنظیم پر پابندی عائد کر دی تھی۔ مصر میں یہ گروپ سنہ 2012 کا صدارتی انتخابات جیت چکا تھا لیکن صدر محمد مرسی کو ایک سال بعد فوجی بغاوت کے ذریعے ہٹا دیا گیا اور وہ سنہ 2019 میں جیل میں انتقال کر گئے تھے۔ سنہ 2013 کے بعد مصر میں اخوان المسلمین پر مکمل پابندی اور کریک ڈاؤن کیا گیا جس کے نتیجے میں یہ تنظیم زیر زمین اور جلاوطن ہو گئی۔
لبنان میں الجماعة الاسلامیہ نے حماس اور حزب اللہ کی حمایت کی اور سنہ 2024 میں اسرائیل کے خلاف مکمل جنگ میں بھی غزہ کے حق میں مؤقف اختیار کیا۔ لبنانی پارلیمنٹ کے رکن عماد الحوت نے ٹرمپ کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ لبنان میں کسی بھی سیاسی تنظیم کی قانونی حیثیت صرف لبنانی آئین اور قوانین کے تحت طے ہوتی ہے نہ کہ امریکی مفادات یا اسرائیل کی حمایت میں خارجہ دباؤ کے تحت۔
مصری اخوان المسلمین نے بھی صدر ٹرمپ کے حکم کو مسترد کیا اور کہا کہ سابقہ امریکی انتظامیہ نے کبھی اس گروپ کو بلیک لسٹ کرنے سے انکار کیا۔ گروپ نے الزام لگایا کہ دباؤ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کی طرف سے ڈالے جا رہے ہیں تاکہ امریکی پالیسیوں کو بیرونی ایجنڈوں کے مطابق ڈھالا جائے۔
امریکا اور مغرب میں دائیں بازو کے سرگرم کارکن کئی سالوں سے مسلم تارکین وطن اور اسرائیل کے ناقدین کو اخوان المسلمین سے جوڑ کر بدنام کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: فلسطینی مزاحمتی تحریک ’حماس‘ کیا ہے؟
صدر ٹرمپ کے اعلان کے بعد امریکی ریاستوں ٹیکساس اور فلوریڈا نے مسلم برادرہ کے ساتھ امریکی مسلم شہری حقوق گروپ کو بھی ’دہشتگرد‘ قرار دیا، جبکہ اس گروپ نے اس فیصلے کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی ہے اور اخوان المسلمین سے اپنے تعلقات سے انکار کیا ہے۔













