امریکی سینیٹرز نے ایک نیا بل متعارف کرایا ہے جس کا مقصد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نیٹو کے کسی بھی رکن ملک کی سرزمین پر قبضہ کرنے یا اس پر کنٹرول قائم کرنے سے روکنا ہے، جس میں نیدرلینڈز کے زیرِ انتظام خود مختار جزیرہ گرین لینڈ بھی شامل ہے۔
منگل کے روز پیش کیے گئے اس 2 جماعتی بل کو نیٹو یونٹی پروٹیکشن ایکٹ کا نام دیا گیا ہے، جس کے تحت محکمہ دفاع اور محکمہ خارجہ کو اس بات سے روکا جائے گا کہ وہ نیٹو کے کسی رکن ملک کی سرزمین کو محاصرے میں لینے، قبضہ کرنے، الحاق کرنے یا کسی بھی شکل میں کنٹرول حاصل کرنے کے لیے امریکی فنڈز استعمال کریں۔
یہ بھی پڑھیے: گرین لینڈ تنازع: ٹرمپ کے ارادوں پر ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنا چاہتے ہیں، ڈنمارک
یہ بل ڈیموکریٹک سینیٹر جین شاہین اور ریپبلکن سینیٹر لیزا مرکوسکی نے مشترکہ طور پر پیش کیا ہے۔ اس قانون سازی کا پس منظر صدر ٹرمپ کے وہ بیانات ہیں جن میں وہ بار بار اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ گرین لینڈ کو امریکی کنٹرول میں آنا چاہیے، حتیٰ کہ طاقت کے استعمال کی دھمکی بھی دی گئی۔
سینیٹر جین شاہین نے کہا کہ یہ قانون واضح پیغام دیتا ہے کہ امریکی ٹیکس دہندگان کا پیسہ ایسے اقدامات کے لیے استعمال نہیں ہو سکتا جو نیٹو کو کمزور کریں اور امریکا کی اپنی نیٹو ذمہ داریوں کی خلاف ورزی ہوں۔ ان کے مطابق گرین لینڈ سے متعلق حالیہ بیانات نہ صرف امریکا کی قومی سلامتی کے مفادات کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ کانگریس میں ان کی شدید مخالفت بھی موجود ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیاں، کیوبا کے صدر نے امریکا کے ساتھ مذاکرات سے انکار کردیا
سینیٹر لیزا مرکوسکی، جو صدر ٹرمپ کی کم ہی مخالفت کرنے والی ریپبلکن شخصیات میں شمار ہوتی ہیں، نے کہا کہ نیٹو عالمی امن و استحکام کے خلاف سرگرمیوں کے مقابلے میں سب سے مضبوط دفاعی اتحاد ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تصور ہی انتہائی تشویشناک ہے کہ امریکا اپنے اتحادیوں کے خلاف اپنے وسیع وسائل استعمال کرے، اور کانگریس کو اسے قانون کے ذریعے مکمل طور پر مسترد کرنا چاہیے۔
صدر ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ پر کنٹرول کے بیانات نے یورپی اتحادیوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے اور نیٹو کے مستقبل پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، کیونکہ نیٹو کی بنیاد اس اصول پر ہے کہ کسی ایک رکن پر حملہ تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
تاہم صدر ٹرمپ کا موقف ہے کہ گرین لینڈ پر امریکی کنٹرول قومی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ اگر امریکا نے قدم نہ اٹھایا تو چین یا روس اس وسیع آرکٹک علاقے پر اثر و رسوخ قائم کر سکتے ہیں، جہاں معدنی وسائل اور فوسل فیول کے بڑے ذخائر موجود ہیں۔














