امریکا میں اسلاموفوبیا اور عرب مخالف جذبات میں اضافے پر امریکی سینیٹر مارک وارنر کا اظہارِ تشویش

بدھ 14 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی سینیٹر مارک وارنر نے پیر کے روز سینیٹ کے فلور پر خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا میں مذہبی امتیاز اور نفرت پر مبنی انتہاپسندی میں تشویشناک اضافہ ہو رہا ہے، جس کا الزام انہوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ پر عائد کیا۔

وارنر کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے بیانات اور پالیسیوں نے اسلاموفوبیا اور عرب مخالف جذبات کو ہوا دی ہے۔ سینیٹر نے کہا کہ وہ سینیٹ میں اس لیے کھڑے ہوئے تاکہ مذہبی امتیاز اور نفرت انگیز انتہاپسندی میں ہونے والے ‘دل دہلا دینے والے اور غیر امریکی’ اضافے کی مذمت کی جا سکے، اور خاص طور پر اس بات کی نشاندہی کی جا سکے کہ کس طرح اس انتظامیہ نے اسلاموفوبیا اور عرب مخالف نفرت کو بڑھایا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: پوپ لیو کی یورپ میں پھیلتے اسلاموفوبیا پر کڑی تنقید، لبنان میں امن کی اپیل

ان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے صدر اور ان کی انتظامیہ نے کھلے عام ایسے امتیازی رویوں کو فروغ دیا اور ادارہ جاتی شکل دی، جس کا نشانہ مسلم اور عرب نژاد امریکی کمیونٹیز بنیں۔ بطور مثال، مارک وارنر نے گزشتہ ماہ کابینہ کے ایک اجلاس میں صدر ٹرمپ کے تبصرے کا حوالہ دیا، جس میں انہوں نے صومالی نژاد افراد کے بارے میں نازیبا الفاظ استعمال کرتے ہوئے انہیں ‘کوڑا کرکٹ’ قرار دیا اور کہا کہ ‘ہم انہیں اپنے ملک میں نہیں چاہتے۔’

وارنر نے ان ریمارکس کو ‘گھناؤنا، انسانیت سوز اور غیر امریکی’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے بیانات کی تمام سرکاری عہدیداروں کو کھل کر اور بھرپور مذمت کرنی چاہیے۔ سینیٹر وارنر نے کانگریس کے اندر بھی اشتعال انگیز زبان پر تنقید کی اور بتایا کہ حال ہی میں ایک نامعلوم سینیٹر نے اسلام کو ‘زہریلا مذہب’ اور ‘مغربی اقدار سے بنیادی طور پر متصادم’ قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیے: نیویارک کے میئر امیدوار ظہران ممدانی کو ابتدائی جیت کے بعد اسلاموفوبیا کا سامنا

ان کا کہنا تھا کہ عوامی عہدوں پر فائز افراد کی ذمہ داری ہے کہ وہ خاموشی توڑیں اور اسلاموفوبیا اور عرب مخالف نفرت کی واضح اور دوٹوک مذمت کریں۔ رمضان المبارک کے قریب آنے کا ذکر کرتے ہوئے مارک وارنر نے زور دیا کہ تعصب اور امتیاز کے خلاف جدوجہد کے عزم کو مزید مضبوط کیا جائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp