وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اعتراف کیا ہے کہ کچھ کمپنیاں پاکستان چھوڑ رہی ہیں۔ اور یہ حقیقت ہے کہ زیادہ ٹیکس اور انرجی کی بلند قیمتیں کاروبار کے لیے سنجیدہ مسائل ہیں
پاکستان پالیسی ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ کہا ہے کہ حکومت نے ٹیکس پالیسی کو ایف بی آر سے لے کر فنانس ڈویژن کے حوالے کر دیا ہے تاکہ پالیسی سازی اور ٹیکس وصولی کے عمل کو الگ کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایف بی آر کی بنیادی توجہ ٹیکس اکٹھا کرنے پر ہونی چاہیے۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ حکومت نے ٹیرف کے شعبے میں بڑی اصلاحات متعارف کروائی ہیں کیونکہ برآمدات پر مبنی معیشت کی طرف بڑھنے کے لیے ٹیرف کو ریشنلائز کرنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ کچھ کمپنیاں ملک سے جا رہی ہیں اور یہ حقیقت ہے کہ زیادہ ٹیکس اور انرجی کی بلند قیمتیں کاروبار کے لیے سنجیدہ مسائل ہیں۔ ہم جتنی ڈیوٹیز بڑھاتےجائیں تو یہ ہمارے لیے نقصان ہے، ہمیں ڈیوٹیز کو معقول بنانا ہوگا اورکاروباری لاگت کم کرنا ہوگی۔
یہ بھی پڑھیے وفاقی حکومت قرض لے کر ریلیف دے رہی ہے، اخراجات میں کمی ناگزیر ہے، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب
محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ غیر بینکنگ افراد کو باقاعدہ مالیاتی نظام میں شامل کیا جا رہا ہے تاکہ معیشت کو دستاویزی شکل دی جا سکے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ رواں سال جون تک تمام حکومتی ادائیگیاں ڈیجیٹل چینلز کے ذریعے کی جائیں گی۔
وزیر خزانہ کے مطابق معاشی اصلاحات کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال 38 ارب ڈالر کی ترسیلات زر موصول ہوئیں جبکہ رواں سال 41 ارب ڈالر کی ترسیلات زر موصول ہونے کی توقع ہے جو ملکی معیشت کے لیے مثبت اشارہ ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ نے کہا ہے کہ ٹیرف میں کمی سے پاکستان کی برآمدات اور صنعتی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ ملک کی تاریخ میں پہلی بار ٹیرف اصلاحات کے ذریعے خام مال پر عائد ڈیوٹیز میں کمی کی گئی ہے تاکہ مقامی صنعت کو فروغ دیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیے مقامی سرمایہ کاروں کے آگے آنے سے بیرونی سرمایہ کاری بھی آئےگی، وزیر خزانہ
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ موجودہ معاشی اصلاحات پاکستان کے لیے ایسٹ ایشیا موومنٹ ثابت ہو سکتی ہیں تاہم انہوں نے واضح کیا کہ قرضوں کی ادائیگی خود بخود کم نہیں ہوئی بلکہ اس کے لیے حکومت نے سخت اور ضروری اقدامات کیے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پی آئی اے کی نجکاری کے عمل میں مقامی سرمایہ کاروں نے شرکت کی جبکہ اب تک 24 سرکاری ادارے نجکاری کمیشن کے حوالے کیے جا چکے ہیں۔ وزیر خزانہ کے مطابق سرکاری اداروں میں ہر سال تقریباً ایک ہزار ارب روپے کا نقصان ہو رہا ہے جو قومی خزانے پر بھاری بوجھ ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ یوٹیلیٹی اسٹورز، پی ڈبلیو ڈی اور پاسکو کو بند کر دیا گیا ہے کیونکہ ان اداروں کو دی جانے والی سبسڈی میں شدید کرپشن سامنے آئی تھی۔












