سعودی عرب کے وزیر سرمایہ کاری خالد الفالح نے کہا ہے کہ نیشنل انویسٹمنٹ اسٹریٹجی کے تحت مائننگ کے شعبے میں سرمایہ کاری کو 2024 میں تقریباً 45 ارب سعودی ریال سے بڑھا کر 2025 سے 2030 کے دوران تقریباً 92 ارب سعودی ریال تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور سعودی عرب کا معدنیات اور کان کنی کے شعبے میں تعاون مضبوط کرنے پر اتفاق
اس منصوبے میں مائننگ کے شعبے میں فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ کو دگنا کرنا اور ایسا سرمایہ کاری ماحول پیدا کرنا شامل ہے جو 20 فیصد سے 30 فیصد تک اوسط انٹرنل ریٹ آف ریٹرن فراہم کر سکے۔
وزیر سرمایہ کاری نے یہ بات ریاض میں فیوچر منرلز فورم 2026 کے موقع پر منعقدہ ڈائیلاگ سیشن میں کہی، جس کا موضوع عالمی مائننگ سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے جرات مندانہ اقدامات تھا، اس سیشن میں مائننگ کے شعبے میں بین الاقوامی سرمایہ کاری کو درپیش چیلنجز اور اہم معدنیات کی تیزی سے بڑھتی عالمی طلب کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کے طریقوں پر غور کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب کی نئی یوتھ ڈویلپمنٹ پالیسی، وژن 2030 میں نوجوانوں کے فعال کردار کی راہ ہموار
سیشن میں اورائن ریسورس پارٹنرز کے منیجنگ پارٹنر اور ڈپٹی گروپ چیف ایگزیکٹو مائیکل بارٹن، کارلائل گروپ کے انرجی پاتھ ویز کے چیف اسٹریٹجی آفیسر جیف کری، انٹیگرا کیپیٹل کے بانی اور چیئرمین ڈاکٹر ہوسے لوئیس مانسانو، ایپیئن ایڈوائزری کے ہیڈ آف گلوبل افیئرز ڈومینک راب اور ایوان ہو الیکٹرک کے پریذیڈنٹ اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ٹیلر میلون نے شرکت کی۔
خالد الفالح نے زور دیا کہ موجودہ مرحلہ حکومتوں، نجی شعبے اور عالمی مالیاتی اداروں کی جانب سے مربوط اور جرات مندانہ اقدامات کا تقاضا کرتا ہے تاکہ فنانسنگ کے مسائل پر قابو پایا جا سکے اور ویلیو چین کے تمام مراحل میں مائننگ منصوبوں کی ترقی کو تیز کیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: امیر مدینہ منورہ کا سعودی وژن 2030 کے اہداف کے حصول کے لیے منصوبے جاری رکھنے پر زور
انہوں نے کہا کہ اسٹریٹجک معدنیات کی عالمی طلب میں اضافہ کسی عارضی مارکیٹ سائیکل کا نتیجہ نہیں بلکہ طویل المدتی ساختی تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے مزید کیا کہ مملکت نے مائننگ کے شعبے کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جامع حکمت عملی اپنائی ہے، جس کے تحت 2020 سے 2024 کے دوران ایکسپلوریشن پر اخراجات میں 5 گنا اضافہ کیا گیا اور منصوبوں کی مدت کم کر کے 8 سے 10 سال میں پیداوار تک پہنچانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اس حکمت عملی کو مربوط انفراسٹرکچر، بشمول سڑکیں، ریلوے، بندرگاہیں اور لاجسٹکس نیٹ ورکس، کے ساتھ ساتھ ایلومینیم اور فاسفیٹ میں عالمی سطح پر مسابقتی ویلیو چینز کی حمایت حاصل ہے۔













