کینیڈا کے وزیر برائے بین الاقوامی تجارت منیندر سدھو کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم مارک کارنی کی نئی حکومت کے تحت سعودی عرب اور کینیڈا کے درمیان تعاون میں 2026 کے دوران تیزی آئے گی۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب کی جانب سے کینیڈا اور مالٹا کے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے اعلان کا خیر مقدم
ریاض میں اوپن ٹیکسٹ کے ریجنل ہیڈکوارٹر کے افتتاح کے موقعے پر عرب نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے منیندر سدھو نے کہا جکہ آپ سال 2026 میں اس تعلق میں تیزی سے بہتری دیکھیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ خطے کا یہ ان کا پہلا دورہ ہے اور انہوں نے جان بوجھ کر اس خطے کو اپنی اولین ترجیح بنایا کیونکہ یہ علاقہ کینیڈا کے لیے نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ دوستی اور شراکت داری کا معاملہ ہے۔
دورے کے دوران کینیڈین وزیر قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں اعلیٰ سطحی کاروباری وفد کے ہمراہ ملاقاتیں کریں گے۔
سعودی عرب کے دورے کے مقصد کے بارے میں سوال پر سدھو نے کہا کہ اس کا بنیادی ہدف رابطہ کاری کو مضبوط بنانا ہے تاکہ سعودی اور کینیڈین کاروباری حلقوں کے درمیان براہِ راست بات چیت ممکن ہو سکے۔
مزید پڑھیے: کیا صدر ٹرمپ امریکا کو تنہا اور کمزور بنا رہے ہیں؟
انہوں نے کہا کہ حکومت سے حکومت کے تعلقات بھی اہم ہیں تاکہ ایسے اقدامات کیے جا سکیں جو کاروبار کو فروغ دیں۔
کینیڈین وزیر کے مطابق اس وقت سعودی عرب اور کینیڈا کے درمیان دو طرفہ تجارت کا حجم تقریباً 4 ارب ڈالر ہے جس میں مزید اضافے کی گنجائش موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ میری توجہ دونوں ممالک کے کاروبار کے لیے دروازے کھولنے اور تعاون کو فروغ دینے پر ہے۔ مزید پیشرفت آپ کو جلد نظر آئے گی۔ کئی کمپنیاں یہاں اپنے ریجنل ہیڈکوارٹر قائم کر رہی ہیں تاکہ معاشی مواقع پیدا کیے جا سکیں۔
دورے کے دوران منیندر سدھو نے سعودی وزیر سرمایہ کاری خالد الفالح سے ملاقات کی، جس میں صنعتی اور سرمایہ کاری شراکت داری کو آگے بڑھانے اور دونوں ممالک کی تجارتی تنوع کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
نومبر 2025 میں خالد الفالح کی قیادت میں سعودی اعلیٰ سطحی وفد نے اوٹاوا کا دورہ کیا تھا جس کے دوران دونوں ممالک نے مشترکہ اقتصادی کمیشن کی بحالی کا اعلان کیا تھا۔
اس وقت 150 سے زائد کینیڈین کمپنیاں مملکت میں سرگرم ہیں جو مصنوعی ذہانت، کان کنی، تخلیقی معیشت، صحت اور دفاع سمیت مختلف شعبوں میں کام کر رہی ہیں۔
مزید پڑھیں: سعودی عرب کا برطانیہ، آسٹریلیا اور پرتگال کی جانب سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا خیرمقدم
سدھو نے کہا کہ وہ کاروبار سے کاروبار کے تعاون کو مزید وسعت دینا چاہتے ہیں اور سعودی کمپنیوں کو بھی کینیڈا میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔
انہوں نے کہا کہ ہم سعودی کمپنیوں کو بھی کینیڈا آنے کی دعوت دیتے ہیں کیونکہ دونوں ممالک مختلف خطوں کی خدمت کرتے ہیں اور یہاں باہمی فائدے کے بے شمار مواقع موجود ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ کینیڈا کے دنیا کے 51 ممالک کے ساتھ 15 تجارتی معاہدے ہیں اور سعودی کمپنیوں کو کینیڈا میں ریجنل ہیڈکوارٹر قائم کرنے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔
انٹرویو کے دوران منیندر سدھو نے کان کنی کو تعاون کا ایک اہم شعبہ قرار دیا اور کہا کہ وہ اس میدان میں شراکت داری کو مزید فروغ دینا چاہتے ہیں۔
مزید پڑھیں: 2026 ورلڈ کپ سے پہلے ہی سعودی عرب فٹبال کی دنیا کی سپر پاور بن گیا
انہوں نے بتایا کہ 100 سے زائد کینیڈین کمپنیاں ریاض میں جاری فیوچر منرلز فورم میں شرکت کر رہی ہیں جو 15 جنوری تک جاری رہے گا۔
وزیر نے دفاعی تعاون میں اضافے کا بھی عندیہ دیا اور کہا کہ جہاں سال 2025 میں 40 کینیڈین کمپنیاں ورلڈ ڈیفنس شو میں شریک ہوئیں وہیں اس سال یہ تعداد 80 تک پہنچ جائے گی۔
منیندر سدھو نے سعودی وزیر برائے مواصلات و انفارمیشن ٹیکنالوجی عبداللہ السواحہ سے بھی ملاقات کی جس میں مصنوعی ذہانت، اختراع اور جدید ٹیکنالوجیز کے شعبے میں دو طرفہ تعاون بڑھانے پر گفتگو ہوئی۔
یہ بھی پڑھیے: سعودی عرب کا 2030 تک مائننگ میں سرمایہ کاری 92 ارب ریال تک لے جانے کا ہدف
انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان مماثلتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب اور کینیڈا کی آبادی تقریباً 40، 40 ملین ہے اور تعلیم، صحت اور سیاحت جیسے شعبوں میں ہمارے درمیان خاصی ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔













